خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 500
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء لڑکیاں احمدیوں میں آجاتی ہیں اور ہماری بہت سی لڑکیاں بغیر شادی کے بیٹھی ہیں۔اس 66 کے متعلق کوئی انتظام کیا جائے۔“ اس پر میں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تین سال تک کوئی احمدی لڑکا غیر احمد یوں میں شادی نہ کرے سوائے مستثنیات کے۔اب وہ عرصہ ختم ہو چکا ہے اور نظارت امور عامہ کے نزدیک اس میں اضافہ ہونا چاہئے کیونکہ ابھی تک مشکلات دُور نہیں ہوئیں۔احباب اس کے متعلق اپنی را ئیں ظاہر کریں۔“ چنانچہ چند احباب نے اپنی آراء کا اظہار کیا اس کے بعد حضور نے فرمایا :- مختلف احباب کے خیالات سننے کے بعد میں سمجھتا ہوں ممانعت کی توسیع کے خلاف کوئی رائے نہیں پیش کی گئی۔سوائے بعض ایسی باتوں کے جو بظاہر تجویز کے خلاف نظر آئیں مگر حقیقت میں تائیدی رنگ رکھتی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں جماعت کے نمائندے اس تجویز کی تائید میں ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ بعض نے خلاف کچھ کہنے کی ضرورت نہ سمجھی ہو مگر وہ رائے خلاف رکھتے ہوں اس لئے میں رائے لوں گا مگر ایک دو باتوں کے متعلق کچھ کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔لڑکیوں کے رشتوں کے متعلق شرطیں ایک دوست نے یہ اعتراض کیا ہے کہ احمدی لڑکیوں کے رشتوں کے متعلق بہت شرطیں لگاتے ہیں۔میں یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ ایسی شرطیں احمد یوں میں ہی لگائی جاتی ہیں اور غیر احمدیوں میں نہیں لگائی جاتیں۔میں اخبارات پڑھتا ہوں، ان میں نکاحوں کے متعلق جو اعلان ہوتے ہیں ان میں کئی قسم کی شرطیں موجود ہوتی ہیں۔میرے نزد یک انصاف اچھی چیز ہے اور اس کے ماتحت اپنے بھائی کا نقص بھی نظر آنا چاہئے مگر یہ کوئی انصاف نہیں ہے کہ جو نقص عام ہوا سے خاص اپنی جماعت کے ساتھ مخصوص کیا جائے۔شرطیں لگانے کا عام مرض رشتوں کے متعلق شرطیں لگانا ایک عام مرض ہے۔نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ ساری اقوام میں اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ سارے ممالک میں۔یہ طبعی بات ہے کہ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی اچھی جگہ جائے اور آرام کی زندگی بسر کرے لیکن اچھی خواہش بھی حد سے بڑھتی بڑھتی