خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 498

خطابات شوری جلد اوّل لینے کے بعد حضور نے فرمایا : - ۴۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء ”اب میں اس معاملہ کے متعلق اپنی رائے ظاہر کرتا ہوں۔پہلا سوال میر محمد الحق صاحب کی طرف سے یہ اُٹھایا گیا ہے کہ سب کمیٹی کی تجویز کردہ مستثنیات اسی صورت میں کبھی جائیں جب کہ وصیت قبول نہ کی جائے لیکن جو زائد چیزوں پر وصیت کرے اُسے ان مستثنیات کو بھی وصیت میں شامل کرنا چاہئے۔میری رائے میں اصولاً میر صاحب کی رائے درست ہے۔جائداد نہ ہونے کی صورت میں ان چیزوں کا استثناء درست ہے۔اس طرح یہ سمجھا جائے گا کہ اس کی کوئی جائداد نہیں اس لئے وہ جائداد کی وصیت ہی نہیں کر سکتا۔دفتر وصیت نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک منظور کردہ فیصلہ پیش کیا ہے جو میر صاحب کی تائید کرتا ہے۔چنانچہ روئیداد اجلاس اوّل مجلس معتمدین جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منظور فرمایا ہے اُس کی شق 4 میں لکھا ہے:- ”جو احباب کوئی جائداد نہیں رکھتے مگر آمدنی کی کوئی سبیل رکھتے ہیں وہ اپنی آمدنی کا کم از کم ۰ارا حصہ ماہوار انجمن کے سپرد کریں۔یہ ان کا اختیار ہے کہ جو چندے وہ سلسلہ عالیہ کی امداد میں اس وقت دیتے ہیں ان کو اس ۱۰ را حصہ میں شامل رہنے دیں یا الگ کر دیں۔اگر وہ اپنے موجودہ چندوں کو اِس ۱۰ را حصہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو جس طرح وہ چندہ بھیج رہے ہیں بھیجتے رہیں۔البتہ ان چندوں کو منہا کر کے جو بچے وہ بقیہ رقم فنانشل سیکرٹری مجلس کار پرداز مصالح قبرستان کے نام بھیج دیں۔باقی خط و کتابت اس مجلس کے سیکرٹری سے کریں لیکن ان کو وصیت کرنی ہوگی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے متروکہ کی کم از کم ۱۰ را حصہ کی مالک انجمن ہو۔“ ان الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متروکہ کے کم از کم ۱۰ را حصہ کو انجمن کے سپرد کرنے کی تصدیق فرمائی ہے اور متروکہ خواہ تھوڑا ہو خواہ زیادہ سب کو متروکہ قرار دیا جائے گا۔اس سے ظاہر ہے کہ وصیت جائداد پر نہیں بلکہ متروکہ پر ہونی چاہئے لیکن