خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 494
خطابات شوری جلد اوّل ۴۹۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء انتظام ہو جائے تو لڑکیوں کا بورڈنگ تیار کر دیں۔اس کے لئے بڑی ضرورت یہ ہے کہ عملہ ہو اور اچھا عملہ ہو۔ہندوستانی عورتوں کی تربیت ایسی ناقص ہے کہ وہ تربیت اچھی طرح نہیں کرسکتیں۔تربیت کے لئے سنگ دلی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔یہ لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اردو میں اور کوئی لفظ اصل مفہوم ادا کرنے والا نہیں ورنہ اسے سنگ دلی نہیں کہہ سکتے ، وہ بھی رحم ہی ہے۔میری اس سے مراد ایسی سختی ہے کہ کسی کی منت اور لجاجت سے اصول کو نہ چھوڑا جائے۔یہ بات ہندوستانی عورتوں میں نہیں پائی جاتی۔اس کے لئے میرا خیال ہے کہ اگر عارضی طور پر بیرونی اقوام سے مدد لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور ممکن ہے انگلستان میں جو عورتیں مسلمان ہو رہی ہیں اُن میں سے ہی آکر یہاں کام کریں لیکن جب تک وہ نہ آسکیں ہمیں کچھ نہ کچھ انتظام کرنا ہوگا۔پھر ہائی سکول کے استاد جو لڑکیوں کو تعلیم کے لئے تھوڑا تھوڑا وقت دیتے ہیں اس طرح پوری طرح تعلیم نہیں ہو رہی۔بجٹ میں یہ بات بھی مد نظر رکھی جائے کہ لڑکیوں کی کالج کی تعلیم کا تسلسل جاری رکھا جا سکے۔“ دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن ساڑھے گیارہ بجے پہلا اجلاس شروع ہوا۔تلاوت قرآن کریم کے بعد حضور نے فرمایا : - " آج کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ دوست مل کر دُعا کرلیں دعا کہ اللہ تعالیٰ آج کا دن بھی مبارک فرمائے۔ہماری کمزوریوں کو نظر انداز کر کے وہ طریق سمجھائے جو ہماری اپنی ذات کے لئے ، ہماری جماعت کے لئے ، ہمارے ملک کے لئے اور ساری دُنیا کے لئے مفید ہو اور ہر خطا سے بچائے جو ہمارے لئے ، ہمارے عزیزوں کے لئے ، ہماری جماعت کے لئے ، ساری دُنیا کے لئے اور آئندہ نسلوں کے لئے مضر ہو۔“ دُعا کے بعد فرمایا:- " پیشتر اس کے کہ اُن امور کے متعلق میں احباب سے مشورہ لوں جن کے متعلق کمیٹیاں مقرر کی گئی تھیں، میں چاہتا ہوں کہ وہ امور پیش کئے جائیں جن کے متعلق۔