خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 490
خطابات شوری جلد اوّل ۴۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء بٹالہ کا ایک مباحثہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔ایک دفعہ میں جوانی کے ایام میں بٹالہ گیا۔وہاں نیا نیا وہابیوں کا چرچا شروع ہوا تھا۔ایک مولوی صاحب کے ساتھ بحث کرنے کے لئے آپ کو کہا گیا۔اُس وقت آپ کا کوئی دعوی نہ تھا۔فرماتے مجھے لوگ مباحثہ کے لئے لے گئے۔میں جب وہاں گیا تو جس شخص سے مباحثہ ہونا تھا اُسے میں نے کہا آپ اپنا عقیدہ پیش کریں اگر وہ صحیح ہوگا تو میں تسلیم کرلوں گا ورنہ بحث کروں گا۔اُس نے کہا میرا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن سب پر مقدم ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو قول صحیح ثابت ہو اسے ماننا چاہئے۔میں نے کہا یہ تو بالکل درست عقیدہ ہے اور بحث کو ترک کر دیا۔اس پر وہی لوگ جو ساتھ لائے تھے مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور دوسروں نے کہا اسے شکست ہوگئی ہے۔گویا اُس وقت سارے کے سارے لوگ خلاف ہو گئے۔تب یہ الہام ہوا۔” تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا۔اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے، ہے گویا یہ الہام اُس وقت ہوا جب آپ نعوذ باللہ ذلیل وجود سمجھے گئے۔اور یہ کہا گیا کہ آپ ہار گئے ہیں۔ایسے وقت میں یہ آواز آپ نے اُٹھائی۔اب دیکھو یہ کیسی سچی ثابت ہوئی۔ایک امریکن سے گفتگو ایک دفعہ ایک امریکن نے جو قادیان آیا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یسوع مسیح تو معجزے دکھاتا تھا آپ کے معجزات کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا آپ بھی میرا معجزہ ہیں۔اس نے کہا یہ کس طرح۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جب مجھے میرے گاؤں کے لوگ بھی نہ جانتے تھے اُس وقت میں نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر کہا تھا يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ اِس میں خدا تعالیٰ نے بتایا تھا کہ دُنیا کے گوشوں سے کھینچ کر لوگوں کو یہاں لاؤں گا۔آپ اب جو آئے ہیں تو اسی لئے آئے ہیں ورنہ آپ کو مجھ سے اور کیا تعلق تھا۔کامیابی کے لئے پختہ ایمان کی ضرورت پس یہ بات یاد رکھیں کہ کسی امر کے متعلق مشورہ کرتے وقت اپنی قوت اور طاقت کو نہ دیکھیں بلکہ یہ دیکھیں کہ اس امر کی دین کو سچی ضرورت ہے یا نہیں۔اگر ہے تو