خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 488
خطابات شوری جلد اوّل ۴۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء داخل ہوئے بلکہ ان ممالک کے باشندے بھی داخل ہو چکے ہیں اور غیر مذاہب کے باشندے داخل ہو چکے ہیں۔پھر جس وقت اس انسان کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے سلسلہ کا انتظام دیا جسے بچہ کہتے تھے، اُس وقت خزانہ پر ۱۸ ہزار قرض کا بار تھا اور صرف چند آنے خزانہ میں موجود تھے۔اُس وقت کہا گیا کہ قادیان کے لوگ چند دن میں بُھو کے مرنے لگیں گے لیکن ابتداء ہی سے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے میرے اندر وہ طاقت اور قوت پیدا کی کہ مجھے ہر موقع پر یہی یقین رہا کہ سلسلہ ضرور بڑھے گا اور ترقی کرے گا۔آج خدا کے فضل سے وہ نظارہ نظر آ رہا ہے کہ سلسلہ کی اشاعت اور جماعت کی ترقی الگ رہی خدا تعالیٰ نے جو رعب عطا کر رکھا ہے وہ جماعت احمدیہ سے سینکڑوں گنے زیادہ تعدا در رکھنے والوں کو بھی حاصل نہیں ہے۔اُس وقت جماعت احمدیہ کو ایک چھوٹی سی اور نا قابل التفات جماعت سمجھا جاتا تھا مگر اب اسے زبر دست طاقت تسلیم کیا جاتا ہے۔اُس وقت مسلمان کہتے تھے احمدیوں کو کسی کام میں اپنے ساتھ ملا کر کیا کرنا ہے مگر آج کہتے ہیں یہ ایک ہی جماعت ایسی ہے کہ اس کی امداد کے بغیر مسلمان ترقی نہیں کر سکتے۔یہ عملی ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔کیا خدا تعالیٰ کی ان نفرتوں اور ان تائیدوں کو دیکھتے ہوئے ہم گھبرا سکتے ہیں؟ اور کیا ان حالات میں دُنیا کی مشکلات روک ہو سکتی ہے؟ اپنی نظریں بلند اور دل مضبوط رکھیں پس اپنے فیصلوں میں یہ بات مدنظر رکھو کہ اس جگہ ہم خدا تعالیٰ کے ایجنٹوں کی حیثیت سے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کا سپرد کیا ہوا کام کرنا ہمارا فرض ہے۔کسی صورت اور کسی حالت میں بھی بُزدل، کمزور ہمت اور پست حوصلہ نہ بنو۔اپنی نظریں بلند اور اپنے دل مضبوط رکھو۔ایک طاقتور آقا نے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ ہم کس طرح یہ کام کرتے ہیں۔بندوں کے سپر د کام کرنے کی وجہ جن نتائج کو خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے ان میں وہ ہمارا محتاج نہیں۔وہ حسن کہہ سکتا ہے اور جو کچھ چاہے فوراً ہو سکتا ہے لیکن وہ دُنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یہ سب کچھ اسی کے حکم سے ہوا ہے۔اُس کا محسن تو عام دیکھتے نہیں اس لئے کہتے ہیں جو کچھ ہوا آپ ہی آپ ہو گیا۔خدا تعالیٰ نے سورج، چاند، ستاروں اور زمین کے متعلق کہا حسن اور یہ سب چیزیں ہو گئیں مگر