خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 485
خطابات شوری جلد اوّل ۴۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء ہو۔اگر جماعت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے قائم نہ کیا ہوتا تو میں خود تسلیم کرتا کہ یہ قومی غداری ہے اور بہت بڑی غداری ہے لیکن چونکہ ہمیں خدا تعالیٰ نے اس کام پر مقرر کیا ہے اس لئے ہم اس کے لئے کھڑے ہونا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔آخری ٹالسٹائے روس کا ایک مشہور روس کے ٹالسٹائے خاندان کا ایک واقعہ انسان گزرا ہے اور تھوڑا ہی عرصہ ہوا جبکہ وہ فوت ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں وہ زندہ تھا۔مفتی محمد صادق صاحب نے اُسے ٹیچنگز آف اسلام بھیجی تھی جس کے متعلق اس نے اعلیٰ درجہ کی رائے کا اظہار کیا تھا۔ان کا کوئی بڑا بزرگ اجداد میں سے اُس وقت کے زار روس کا در بان تھا۔ایک دفعہ زار کو کوئی اہم کام در پیش تھا اُس نے دربان کو حکم دیا کہ آج مجھ سے ملنے کے لئے کوئی نہ آئے۔روس کا قانون تھا کہ نوابوں اور شاہی خاندان کے لوگوں پر وہ قانون عائد نہ ہوتا جو عوام کے لئے ہوتا مگر زار نے کہہ دیا خواہ کوئی ہو آج اُسے ملاقات کے لئے اندر نہ آنے دیا جائے۔اتفاق سے ایک اعلیٰ طبقہ کا ڈیوک آ گیا جو شاہی خاندان میں سے تھا اور فوجی افسر بھی تھا۔جب وہ اندر جانے لگا تو دربان نے اُسے روک دیا اور کہہ دیا زار کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ڈیوک نے کہا کیا تم جانتے نہیں ہو میں کون ہوں؟ دربان نے کہا حضور! میں جانتا ہوں آپ ڈیوک ہیں۔اُس نے کہا پھر کیوں روکتے ہو؟ دربان نے کہا اس لئے کہ بادشاہ کا حکم ہے۔اس پر ڈیوک دربان کو مارنے لگا۔وہ مار کھاتا رہا لیکن جب ڈیوک اندر جانے لگا تو اُس نے کہا بادشاہ کا حکم ہے کہ کسی کو اندر نہ آنے دوں اس لئے آپ اندر نہیں جا سکتے۔اس پر اُس نے مارا اور جب اندر جانے لگا تو دربان نے پھر روک دیا۔آخر تیسری بار جب ڈیوک مار رہا تھا تو زار نے آواز دی کیا ہے؟ ڈیوک نے کہا دربان مجھے اندر نہیں آنے دیتا۔زار نے کہا دونوں اندر آ جاؤ۔جب دونوں گئے اور ڈیوک نے ساری بات سنائی تو زار نے کہا میں نے اسے حکم دیا تھا کہ کسی کو اندر نہ آنے دو۔اب میں اسے حکم دیتا ہوں کہ جس طرح تم نے اسے مارا یہ تمہیں مارے۔جب دربان مارنے لگا تو ڈیوک نے کہا یہ مجھے نہیں مار سکتا، میں فوجی افسر ہوں۔زار نے کہا میں اسے جرنیل بناتا ہوں اور کہتا ہوں اب مارو۔ڈیوک نے کہا یہ اب بھی نہیں مارسکتا کیونکہ قانون