خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 483

خطابات شوری جلد اوّل ۴۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء ہماری کمزوری ہماری کمزوری اور ناطاقتی سے ہم سے زیادہ واقف کوئی نہیں ہوسکتا۔دشمن ہمیں کمزور دیکھ کر کہتا ہے کچل کر رکھ دوں گا مگر وہ جتنا کمزور ہمیں سمجھتا ہے ہم اس سے بھی بہت زیادہ کمزور ہیں۔ابھی پچھلے دنوں ایک شخص نے کہا جسے غرور تھا کہ پنجاب میں ان کی رو چلی ہوئی ہے کہ ہم احمدی جماعت کو کچل ڈالیں گے۔اگر میرا نفس بھی موٹا ہوتا تو میں اُسے یہ جواب دیتا کہ تم ہمیں کیا چلو گے ہم تمہیں کچل کر رکھ دیں گے مگر میں اُس کی بات سُن کر مسکرا پڑا۔میرے نفس نے کہا جس جماعت کی کمزوری اور ناتوانی کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ اسے کچل دیا جائے ، ہم جانتے ہیں یہ جماعت اُس سے بھی زیادہ کمزور ہے جس قدر سے کمزور سمجھا جا رہا ہے۔پھر میں اس پر بھی مسکرایا کہ اُسے معلوم نہیں کہ ہم کس کی گود میں بیٹھے ہیں۔یہ اپنے آپ کو پہلوان سمجھتا ہے اور ہماری جماعت کو بچہ کی طرح کمزور قرار دیتا ہے۔یہ اس بچہ پر ہاتھ اُٹھاتا ہے اور اس بات پر فخر کا اظہار کرتا ہے کہ ہم اسے کچل کر اور مسل کر رکھ دیں گے۔اگر واقعہ میں یہ اپنے آپ کو پہلوان سمجھتا ہے اور اپنے مقابلہ میں جماعت احمدیہ کو بچہ قرار دیتا ہے تو اُسے شرم آنی چاہئے کہ ایک بچہ کے سامنے اس قسم کا دعوی کرتا ہے لیکن کاش ! اس کی آنکھیں ہوتیں اور کاش وہ یہ دیکھتا کہ یہ بچہ ایسے باپ کی گود میں بیٹھا ہے جس کے مقابلہ میں ساری دُنیا کی طاقتوں کی حقیقت مچھر کے برابر بھی نہیں اور تمام دنیا کے طاقتور چیونٹی کی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔اس کا یہ کہنا کہ ہم جماعت احمدیہ کو کچل کر رکھ دیں گے بے شک ظاہری سامان ایسے ہی ہیں کہ کچل دیں مگر اس جماعت کی حفاظت کے لئے ایک ایسی ہستی کھڑی ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ ایک لمحہ میں بڑے سے بڑے دشمن کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ایک مثال اس کے متعلق ایک مثال ہی کیوں نہ پیش کر دی جائے۔ایک حج تھا جس کے سامنے ایک مقام کی جماعت احمدیہ کا ایک مقدمہ پیش تھا اُس سے توقع تھی کہ احمدیوں کے حق میں فیصلہ کرے گا۔وہاں کی جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے درخواست کی کہ دُعا کی جائے خدا تعالیٰ کا میابی عطا کرے۔آپ نے لکھا دُعا کی گئی ہے خدا تعالیٰ فضل کرے گا۔لیکن ظاہری حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ وہ حج جو احمدیوں سے ہمدردی رکھتا تھا بدل گیا اور ایک ایسا حج آ گیا جسے احمدیوں سے سخت عداوت تھی اور جس