خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 482
خطابات شوری جلد اوّل ۴۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء وقت دو باتیں ضرور مد نظر رکھنی چاہئیں۔ایک تو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ ہر جماعت میں کچھ لوگ طاقتور ہوتے ہیں اور کچھ کمزور ہوتے ہیں۔اگر کوئی طاقتور ہو تو اسے کبھی یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ تمام کے تمام لوگ اسی رنگ میں طاقت رکھتے ہیں اور اگر کوئی خود کمزور ہو تو اسے خیال نہیں کرنا چاہئے کہ سب کو اُسی کی طرح کمزور ہو جانا چاہئے۔طاقتور کو کچھ طاقت کم کرنی پڑتی ہے اور کمزور کو کچھ اوپر ہونا پڑتا ہے تب دونوں مل کر کام کر سکتے ہیں۔اس کی موٹی مثال دو بیلوں کے متعلق ملتی ہے جو ایک گاڑی میں جتے ہوئے ہوں۔جن میں سے ایک مضبوط ہو اور ایک کمزور۔ان کا مشترکہ کام دونوں کی طاقتوں کے درمیان ہوتا ہے۔طاقتور کا کام یہ ہوتا ہے کہ اپنی طاقت کی نسبت کچھ کم تیزی سے چلے اور کمزور کا کام یہ ہوتا ہے کم ہونے کی نسبت سے زیادہ طاقت لگائے۔درمیانی راہ اختیار کی جائے ہیں آپ لوگ جو مشورے دیں اُن میں یہ خیال ضرور رکھیں کہ درمیانی راہ اختیار کی جائے۔نہ تو اتنا بوجھ بنایا جائے کہ کمزور چل ہی نہ سکیں اور نہ اتنا کمزوروں کا خیال رکھا جائے کہ ترقی ہو ہی نہ سکے۔ہماری کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے دوسری بات جو اپنے مشوروں میں مدنظر رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا ہے اور اس کی ترقی ہماری کوششوں پر مبنی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نصرت پر منحصر ہے۔اس لئے ہمیں کبھی یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہماری کیا حیثیت ہے۔ہماری حیثیت خواہ کچھ ہی ہو جن مقاصد کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور اُسی نے یہ کام ہمارے سپرد کر کے کہا ہے کہ جاؤ ان مقاصد کو حاصل کرو۔اوّل تو خدا تعالیٰ پر حُسنِ ظنی چاہتی ہے کہ ہم یہ خیال کریں کہ ہم ان مقاصد کو حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔کوئی عقلمند انسان بڑے آدمی کا کام ایک بچہ کے سپرد نہ کرے گا۔کوئی بادشاہ جرنیل کا کام ایک سپاہی کو نہیں دے گا۔پھر کس طرح یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے سپر د وہ کام کرے جو ہم نہ کر سکتے ہوں اور وہ مقاصد پورے کرنا ہمارا فرض ٹھہرائے جن کے پورے کرنے کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔