خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 481
خطابات شوری جلد اوّل ۴۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء اور اگر اچھا ہو تو تمام لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مشوروں میں تقویٰ وطہارت سے کام لو اور صفائی قلب پیدا کرو۔دُعا کرو پھر خدا تعالیٰ سے دُعا کرو کہ وہ تمہاری راہ نمائی فرمائے۔ہر لفظ جو تمہاری زبان سے نکلے، مصفی اور خالص ہو۔کسی قسم کی گمراہی کا اس میں شائبہ نہ ہو۔پھر یہ بھی دُعا کرو کہ ہم ایسے نتائج پر پہنچیں جو دُنیا کے لئے فائدہ کا موجب ہوں۔اس دُنیا کی زندگی نہایت عارضی اور قلیل زندگی ہے۔اس دُنیا کے متعلق سائنس دان کہتے ہیں کہ لاکھوں سال سے چلی آرہی ہے اور یہ پتہ نہیں کہ کب تک چلی جائے گی۔اتنے لمبے عرصہ میں سے زیادہ سے زیادہ ۶۰ یا ۷۰ سال کی انسانی زندگی ایک نہایت ہی قلیل زندگی ہے۔اس میں کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے کہ جس کا بُرا خمیازه ابدی زندگی میں اُٹھانا پڑے بلکہ اسی بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہی کچھ کیا جائے جس کا فائدہ اُس ہمیشہ کی زندگی میں حاصل ہو سکے۔پہلی بات پس اس وقت پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گفتگو کرتے وقت یہ خیال رکھا جائے کہ وقت ضائع نہ ہو۔کوئی مفید بات ذہن میں آئے تو وہ پیش کی جائے اور دیکھ لیا جائے کہ کسی اور نے تو نہیں پیش کر دی۔اگر کوئی اور پیش کر چکا ہو تو پھر کہنے کی ضرورت نہیں۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یا د رکھنا چاہئے کہ مشورہ دینے والے دوسری بات آپس میں اختلاف بھی رکھتے ہیں مگر مشورہ دیتے وقت معاملہ کی حقیقت کو مد نظر رکھنا چاہئے اور یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس نے اسے پیش کیا ہے۔یہ نہایت ہی ذلیل بات ہے کہ زید یا بکر سے اختلاف کی وجہ سے اُس کے پیش کردہ مسئلہ کے خلاف رائے دی جائے۔یہ بات میں یہ فرض کر کے کہہ رہا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی کسی کو کسی سے عداوت اور دشمنی ہو سکتی ہے اگر ایسا ہو تو کسی کو کسی عداوت کی وجہ سے خلاف رائے نہیں دینی چاہئے یا کسی کے الفاظ کی ترشی کو اپنی رائے پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہئے۔اس قسم کے سب طریق گمراہی کی طرف لے جانے والے ہیں اور سخت نقصان پہنچانے والے ہیں۔فیصلہ کرتے وقت دو باتیں مدنظر رکھنی چاہئیں اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنے فیصلے کرتے