خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 480

خطابات شوری جلد اول لد ٠٧ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء لئے وہ کہتا ہے کہ یہ کام تمہاے سپرد کیا گیا ہے، جاؤ تم فیصلہ کرو۔ ہم اس فیصلہ کے لئے جمع ہوتے ہیں لیکن بجائے اُس طالب علم کی طرح ڈرنے اور خوف کھانے کے جو کمرہ امتحان میں داخل ہو رہا ہوتا ہے ضد اور ہٹ اور نمائش کا رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ تو ہم کتنی بڑی ٹھو کر کھاتے ہیں ۔ اگر ہم یہ نہیں سمجھتے کہ جو فیصلہ ہم کریں گے وہ لاکھوں انسانوں پر نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں پر اثر انداز ہوگا اور اسی زمانہ کے کروڑوں انسانوں پر نہیں بلکہ آنے والے کروڑوں انسانوں پر بھی اثر انداز ہوگا ۔ ہمارے فیصلہ کی غلطی کتنے خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے اور ہمارے فیصلہ کی صحت کیسے عظیم الشان نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ تو ہم اپنے آپ کو سخت خطرہ میں ڈالتے ہیں ۔ کا قول امام ابو حنیفہ نے کیا ہی عمدہ بات فرمائی ہے۔ کسی نے اُن سے کہا مام ابوحیفہ کا کیا کسی نے آپ کو بھی کبھی ایسی نصیحت کی جس کا آپ کے دل پر گہرا نقش ہوا ؟ اُنہوں نے کہا کبھی کسی بڑی عمر کے انسان نے کوئی بات ایسی مجھے نہیں بتائی جو غیر معمولی طور پر یاد رکھنے کے قابل ہو، ہاں ایک بچہ نے مجھے ایسی بات کہی تھی ۔ اُس نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ بارش ہو رہی تھی ، چھوٹی عمر کا ایک بچہ تھا جو ادھر اُدھر دوڑ رہا تھا میں نے خیال کیا کیچڑ میں وہ گر پڑے گا اس وجہ سے میں نے اُسے کہا میاں بچے سنبھل کر چلوا ایسا نہ ہو کہ پاؤں پھسل جائے اور گر پڑو۔ یہ سن کر اُس نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور کہا امام صاحب ! آپ اپنی فکر کریں۔ میں پھسلا تو میری اپنی ہی ہڈی پسلی ٹوٹے گی لیکن اگر آپ پھیلے تو اور بھی بہت سے لوگ تباہ ہو جائیں گے۔ ۔ تقوی وطہارت سے کام لو ہماری بھی یہی حالت ہے ۔ ہماری غلطی بھی لاکھوں انسانوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور ہماری اچھی بات لاکھوں انسانوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ پس یہ مت سمجھو کہ تم جو یہاں جمع ہوئے ہوا ہو ایک غریب اور کمزور جماعت کے لوگ ہو اور اپنی تعداد کے لحاظ سے دُنیا کے مقابلہ میں نہ ہونے کے برابر ہو اس لئے کہ خدا تعالیٰ جن جماعتوں کو قائم کرتا ہے ان کے تاثرات خود پھیلاتا ہے۔ وہ جماعتیں ایک طاقت ور پیج کی طرح ہوتی ہیں جس سے بہت بڑا درخت بنتا ہے اور ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ ایسا درخت اگر زہریلا ہو گا تو ساری دنیا کو تباہ کر دے گا