خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 479
خطابات شوری جلد اوّل ۴۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء نے نہ کہی ہو تو وہ پیش کر دینی چاہئے۔میں قریباً ہر سال یہ بات کہتا ہوں مگر ہر سال کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس سے پوری طرح فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا۔کئی لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہم بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر اس لئے نہیں کہ اُن کے ذہن میں کوئی نئی بات ہوتی ہے بلکہ اس لئے کہ ہمیں بھی کچھ کہنا چاہئے حالانکہ ان سے پہلے کئی دوست وہی بات کہہ چکے ہوتے ہیں مگر وہ بحث کی رو میں بہہ جاتے ہیں اور یہ محسوس نہیں کرتے کہ اس طرح اپنا بھی اور دوسروں کا بھی وقت ضائع کر رہے ہیں۔وہ محض اپنی بڑائی اور اپنی قابلیت کے اظہار کے لئے بولنا ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ یہ اجلاس کسی بڑائی اور کسی فخر کے اظہار کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس میں شامل ہونے والوں کو بے حد خوف محسوس کرنا چاہئے کیونکہ ہمارا یہاں کام قاضی اور حج کی حیثیت کا ہے اس لئے ہماری وہی حالت ہونی چاہئے جو ایک مسلمان قاضی کے متعلق بیان کی جاتی ہے۔ایک مسلمان قاضی کی حالت بیان کیا جاتا ہے کہ بادشاہ نے ایک شخص کو قاضی مقرر کر دیا۔اُس کے دوست یہ سمجھ کر آئے کہ وہ خوش ہو رہا ہوگا ہم بھی اس کی خوشی میں شریک ہوں۔مگر آ کر دیکھا کہ وہ رو رہا تھا۔اُنہوں نے پوچھا کیوں رو ر ہے ہو تمہیں تو خوش ہونا چاہئے تھا۔اُس نے کہا میرے لئے یہ خوشی کی بات نہیں۔بادشاہ نے میرے سپر د ایسا کام کیا ہے جس کے متعلق مجھے ذاتی طور پر کوئی علم نہ ہوگا۔میرے پاس مدعی اور مدعا علیہ اپنا مقدمہ لے کر آئیں گے۔مدعی کو معلوم ہوگا کہ اصل بات کیا ہے اور مدعا علیہ کو بھی معلوم ہوگا کہ حقیقت کیا ہے مگر مجھے کچھ معلوم نہ ہوگا اور اُن کا فیصلہ کرنا میرا کام ہو گا۔گویا دو بیناؤں کو مجھ نابینا کے سپرد کیا جائے گا کہ میں اُن کی راہنمائی کروں۔دو عالموں کو مجھ جاہل کے سپرد کیا جائے گا کہ میں اُنہیں تعلیم دوں۔اس سے زیادہ میرے لئے خطرہ کی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ہماری حالت یہی حالت ہماری ہے۔ہم جو بھی کام کریں گے اُس کے نتائج نکلیں گے، اچھے یا بُرے مگر ہمیں نہیں معلوم کہ واقعات کس طرح رونما ہوں گے۔ان میں کیا کیا تغیرات آئیں گے۔دراصل صحیح اور حقیقی فیصلہ وہ علیم وخبیر خدا ہی کر سکتا ہے جس نے یہ سلسلہ جاری کیا ہے اُس کے ہوا اور کوئی نہیں کر سکتا مگر ہمارا امتحان لینے کے