خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 478

خطابات شوری جلد اوّل MLA مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء اُس کی ساری زبان کٹ گئی۔بحث و مباحثہ میں بھی یہی حالت ہوتی ہے۔جب کوئی ایسا شخص اس میں شامل ہوتا ہے جو اپنے نفس پر پوری طرح قابو نہیں رکھتا تو اس مسئلہ کا خیال اس کے دل سے محو ہو جاتا ہے۔وہ بحث میں ایسی لذت پاتا ہے کہ گویا اُس کی ساری ترقیات کا مدار اُس پر ہوتا ہے کہ اسے جیتا ہوا سمجھا جائے۔ایسی بحث لعنت کا موجب بن جاتی ہے اور بحث کرنے والے کو تباہ کر دیتی ہے۔مجلس میں استغفار کرنا یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات پر عمل کیا اور تعلیم دی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تو متواتر استغفار پڑھتے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا میں مجلس میں جا کر ہے بار استغفار کرتا ہوں اے یہ عربی محاورہ ہے جو کثرت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔یعنی آپ کا یہ مطلب تھا کہ آپ بکثرت استغفار کرتے تھے ہوسکتا ہے کہ کبھی آپ ۷۰ بار نہیں بلکہ بہت زیادہ بار استغفار کرتے ہوں اور ہو سکتا ہے کہ کبھی آپ ۷۰ بار سے کم استغفار کرتے ہوں۔اس استغفار کی وجہ یہی تھی کہ مجلس میں لوگ جو گفتگو کرتے ہیں اس سے انسان اثر پذیر ہونے لگتا ہے اور بسا اوقات ایک انسان اپنی جگہ سے ہل کر کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے اور اُسے اِس کا پتہ بھی نہیں لگتا۔استغفار کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے التجاء کی جاتی ہے کہ اسے دوسروں کے مینر اور نقصان رساں اثرات سے محفوظ رکھے۔تباہی کا موجب بنے والی مجلس غرض جہاں بحث کسی مسئلہ کی وضاحت اور اس کے حل کا موجب ہوتی ہے وہاں اس سے ضد اور کج روی بھی پیدا ہوتی ہے۔ایسی صورت میں وہ مجلس جہاں یہ بات پیدا ہوتا ہی کا موجب بن جاتی ہے۔صرف بحث کرنے کی غرض سے پیس میں ایک نصیحت تو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب آپ لوگ مشورہ میں شامل ہوں تو کسی بات میں شامل نہ ہونا چاہئے آپ میں سے ہر ایک یہ بات مد نظر رکھے کہ کسی بحث میں صرف بحث کرنے کی غرض سے کبھی شامل نہیں ہونا چاہئے۔ہاں اگر دل میں کوئی ایسی بات آئے جو مفید ہو اور کسی اور