خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 477

خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء کروں کہ میری کسی ہدایت یا میرے کسی اشارہ سے اتحاد پیدا ہو گا۔بالکل ممکن ہے کہ انسانی دماغ ایک چیز کو اتحاد و اتفاق کے لئے پیدا کرے لیکن دراصل وہ انشقاق اور اختلاف پیدا کرنے والی ہو اور بالکل ممکن ہے کہ انسانی دماغ ایک چیز کو انشقاق کے لئے پیدا کرے اور وہ اتحاد قائم کر دے۔پس ہمیں اپنے علم، اپنی عقل اور اپنے تجربہ پر خدا تعالی پر بھی بھروسہ کرنا چاہئے قتلا بھروسہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ خداتعالی پر ہی بھروسہ رکھنا چاہئے اور اس سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہمیں ایسے رنگ میں معاملات پر غور کرنے کا موقع دے کہ ہم اُس کی رضا کو حاصل کر لیں اور ایسے ذرائع سے کلام کریں جو مفید ہوں اور ایسے طریق بیان سے بچائے کہ جو جماعت میں شقاق اور دین میں رخنہ پیدا کرنے والا ہو۔نیک نیتی سے مشوروں میں حصہ لینا چاہئے تحر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں خدا تعالیٰ نے ان سب باتوں کو اپنے قبضہ و اختیار میں رکھا ہے وہاں اپنے بندوں پر اپنا فضل نازل کرنے کے سامان بھی رکھے ہیں اور ان سامانوں سے کام لینا ہمارا فرض ہے۔انہی سامانوں میں سے ایک ضروری سامان یہ بھی ہے کہ ہم لوگ نیک نیتی کے ساتھ اور مصفی ارادوں کے ساتھ مشوروں میں حصہ لیں۔عام طور پر جب لوگ مشورے کرتے ہیں تو بحث و مباحثہ کی رو بحث نشہ آور چیز ہے کے ماتحت کج بحثی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔بحث اچھی چیز ہے اس سے بہت سی حقیقتیں گھل جاتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ یہ ایک نشہ آور چیز ہے۔جب لوگ کسی امر کے متعلق بحث کر رہے ہوتے ہیں تو وہ نشہ محسوس کرتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ان سے وہ مسئلہ پوشیدہ ہو جاتا ہے جس کے متعلق بحث شروع کی جاتی ہے اور وہ کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں۔چیتے کی مثال ان کی مثال اُس چیتے کی سی ہوتی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کہیں سل پڑی تھی جسے وہ چیتا چاٹنے لگا۔چاہتے چاہتے اُس کی زبان سے خون نکل آیا۔اس پر اُس نے یہ سمجھا کہ سل چاٹنے سے مزا آ رہا ہے اور آخر چاہتے چاہتے