خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 476
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء التجاء کریں کہ وہ ہماری رہنمائی فرمائے ، اُس کا فضل ہمارے دلوں پر مسلط ہو کر ہمارے افکار اور ہمارے ارادوں کو درست کر دے۔اُس کا فضل ہماری زبانوں پر مسلط ہو کر ہمارے الفاظ کو درست کر دے۔اُس کا فضل مشورہ دینے والوں کے دلوں پر مسلط ہو کر اُن کے مشوروں کو درست کرے۔اس کا فضل ہمارے امام پر مسلط ہو کر اس کے فیصلوں کو ایسے اصول پر چلائے جو اُس کی منشاء کے مطابق اور ہماری بہتری کے لئے ہوں، ہماری ساری جماعت کی بہتری کے لئے ہوں۔ہماری موجودہ نسلوں کی بہتری کے لئے ہوں، ہماری آئندہ نسلوں کی بہتری کے لئے ہوں۔ہمارے ملک کی بہتری کے لئے ہوں اور ساری دُنیا کی بہتری کے لئے ہوں۔“ افتتاحی تقریر شهد۔، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد افتتاحی تقریر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : - انسانوں کی راہنمائی کی مشکلات ہمارے احباب کو خوب اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ کوئی انسان خواہ کتنی ہی لیاقت، کتنا ہی علم اور کتنا ہی تجربہ حاصل کر لے دوسرے انسانوں کی صحیح اور مکمل راہ نمائی نہیں کر سکتا اس لئے که تمام انسان دوسری چیزوں کی طرح ایک ہی خاصیت کے نہیں ہوتے بلکہ ہر انسان دوسرے انسان سے کیفیات اور خواص میں مختلف ہوتا ہے حتی کہ بھائی بھائی بھی تمام باتوں میں مشترک انخیالات ملنے مشکل ہیں۔باپ بیٹے تمام باتوں میں متحد الا فکار ملنے مشکل ہیں۔انسانوں میں اتحاد و اشتراک ایک حد تک ہوتا ہے۔اس کے بعد پھر قریب سے قریب رشتے رکھنے والوں، قریب سے قریب خیالات رکھنے والوں میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ان حالات میں یہ امید کرنی کہ کوئی انسان دوسرے تمام انسانوں کی صحیح اور مکمل رہنمائی کر سکتا ہے ایسا ہی خیال ہے کہ جس کا پورا ہونا محال ہے۔انسانوں میں اتحاد خدا ہی پیدا کر سکتا ہے اگر کوئی ہستی انسانوں میں مکمل اتحاد پیدا کر سکتی ہے یا ایسا اتحاد جو کام چلانے کے لئے ضروری ہو وہ پیدا کر سکتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ ہی کی ہستی ہے جو مخفی سے مخفی اسباب اور پوشیدہ سے پوشیدہ طریق جانتا ہے۔پس میری یہ نادانی ہوگی اگر میں یہ خیال