خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page v
(i) بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ پیش لفظ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان اور اس کی دی ہوئی توفیق سے فضل عمر فاؤنڈیشن کو سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود کے حقائق و معارف ، عظیم فکری استعدادوں اور فراست سے بھرے ہوئے منصوبوں پر مبنی خطابات بر موقع مجالس شورای کی جلد اول احباب جماعت کے استفادہ کے لئے پیش کرنے کی سعادت مل رہی ہے۔وَمَا تَوْفِيْقَنَا إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ بہت سے احباب جماعت کی طرف سے اس خواہش کا اظہار وقتا فوقتا سامنے آرہا تھا کہ حضرت مصلح موعودؓ کی مجالس مشاورت کی تقاریر کو شائع کیا جائے کیونکہ یہ تقاریر شورای کے نظام کو سمجھنے اور جماعتی تربیت کے سلسلہ میں غیر معمولی اہمیت و افادیت رکھتی ہیں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی اس بات کو محسوس کرتے ہوئے یہ تجویز کیا کہ مجالس مشاورت میں حضور کے افتتاحی اور اختتامی خطابات کا مسودہ ترتیب دیا جائے اسی طرح تجاویز کے پیش ہونے کے دوران بھی حضور انور نے جو ارشادات فرمائے ہیں ان کو بھی شامل کر لیا جائے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کی یہ تجویز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بغرض راہنمائی و منظوری بھجوائی گئی جس پر حضور انور نے ازراہ شفقت اس کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔ابتدا میں خطابات شورای دو جلدوں میں شائع کرنے کا پروگرام تھا لیکن بعد میں دو ہزار صفحات پر مشتمل مسودہ کو دیکھتے ہوئے اب اسے انشاء اللہ تین جلدوں میں شائع کیا جائے گا۔