خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 469

خطابات شوری جلد اوّل ۴۶۹ رت ۱۹۳۱ء کے معائنہ کا پہلے موقع نہ ملا لیکن دورانِ مشاورت میں معائنہ کر کے انہوں نے مجھے رپورٹ دی ہے جس میں ان تجاویز کے متعلق رائے ظاہر کی ہے جو پچھلے سال ان کی رپورٹ پر میں نے منظور کی تھیں۔پہلی تجویز کمیشن کی ناظروں کے دورہ کے متعلق تھی۔اس کے متعلق بتایا ہے کہ ایک دورہ تو کیا گیا لیکن دوسرا ملتوی کر دیا گیا۔اس پر انہوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ دورہ ملتوی کرنے کی منظوری نہیں حاصل کی گئی۔فی الواقعہ اس کی مجھ سے منظوری نہیں لی گئی۔“ باقی تجاویز کے متعلق بھی حضور نے کمیشن کی رائے پڑھ کر سُنائی اور فرمایا : - اس رپورٹ میں چند ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جن پر عمل نہیں ہوا۔میں امید کرتا ہوں کہ مجلس معتمدین آئندہ سال ان پر عمل کرانے کی کوشش کرے گی۔نے کمیشن کا تقرر آئندہ سال کے لئے پچھلے قاعدہ کے مطابق ایک کمیشن مقرر کرتا ہوں۔اِن سوالات کے متعلق جو جماعت میں اعلان کرنے کے لئے ہوں گے اور جو مجلس معتمدین سے تعلق رکھتے ہیں کمیشن کو بعد میں اطلاع دے دی جائے گی۔اس کمیشن کے ممبر ان اصحاب کو مقرر کیا جاتا ہے (۱) ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب (۲) قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے لاہور۔(۳) بابو محمد عالم صاحب راولپنڈی۔ڈاکٹر صاحب پریذیڈنٹ ہوں گے۔علاوہ اس تحقیق کے جو ہر کمیشن کو مدنظر رکھنی چاہئے باقی کے جو امور ہیں وہ یہ ہیں :۔(۱) مجلس معتمدین اپنے قواعد کی تعمیل کراتی ہے یا نہیں اور میرے فیصلوں کی خود تعمیل کرتی ہے یا نہیں؟ مسلمانوں پر ساری تباہی کی یہی وجہ ہے کہ خود جو قواعد بناتے ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔کمیشن کو یہ بات خاص طور پر دیکھنی ہوگی۔(۲) علاوہ ازیں یہ کہ مجلس شوریٰ میں جو میں فیصلے کرتا ہوں اُن پر انجمن معتمدین خود عمل کرتی ہے یا نہیں ؟ اور دوسروں سے عمل کراتی ہے یا نہیں؟ (۳) سلسلہ کے اخراجات میں اقتصادی پہلو مدنظر رکھا جاتا ہے یا نہیں؟ (۴) کارکنوں سے ایسے طور پر کام کرایا جاتا ہے یا نہیں کہ ان کی قابلیت کو بہترین طور پر استعمال کیا جائے۔یہ ایسے امور ہیں جو ہر کمیشن کو مد نظر رکھنے چاہئیں۔باقی امور بعد میں