خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 467
خطابات شوری جلد اول نے فرمایا۔ ۴۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء اصل میں یہ سکیم محاسب صاحب صدر انجمن کے پاس تھی اور سب کمیٹی چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے مشورہ کرتی رہی مگر اب وہ سارے کے سارے کاغذات امور عامہ کو نہیں ملے اور معلوم ہوتا ہے ناظر صاحب اُن کا مطالعہ بھی نہیں کر سکے اس لئے اچھی طرح بیان نہیں کر سکتے ۔ ۱۹۲۸ء میں جو تجویز کی گئی تھی وہ یہ تھی کہ اس سکیم کی منیجنگ ڈائریکٹر صدر انجمن ہو جو انتظام کرائے اور حصہ دار بنائے لیکن پھر یہ تجویز ہوئی کہ اس سکیم کے متعلق عہدہ دار خود حصہ دار ا کٹھے ہو کر بنائیں اور وہ کام چلائیں۔ اب یہ پہلا سوال غور طلب ہے کہ صدر انجمن کا اس سے تعلق ہونا چاہئے یا کوئی اور طریق ہو۔ یعنی ایسی سکیم کے انتظامی کام کی صدر انجمن ذمہ وار ہو یا جو حصہ دار ہوں اُن کے مقرر کردہ ڈائریکٹر کام چلائیں یا اگر کوئی اور صورت ہو تو وہ پیش کر سکتے ہیں تا کہ اس پر غور کر لیا جائے ۔“ احباب سے آراء لینے کے بعد حضور نے فرمایا :- میں کثرت آراء کے حق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ حساب رکھنا ، خرچ کرنا ، سکیم سو چنا، کام کو ترقی دینا ، نفع تقسیم کرنا وغیرہ سب کام تو حصہ داروں کے مقرر کردہ ڈائریکٹروں کے ہاتھ میں ہو لیکن صدر انجمن کو یہ اختیار ہو کہ سال میں یا جب چاہے حساب کا معائنہ کر سکے، رجسٹرات دیکھ سکے اور حصہ داروں کو بتا سکے کہ کمپنی کی کیا حالت ہے ۔“ 66 کو آپریٹو سوسائٹیوں کے متعلق تجویز ایجنڈا ہیں کو اپریٹو سوسائٹیز کے متعلق کے ا ا و تھی ۔ جو تجویز تھی اسے سب کمیٹی نے جس رنگ میں منظور کیا تھا اسے پیش کرتے ہوئے سیکرٹری صاحب سب کمیٹی نے کہا :- تھا اسے سب سب کمیٹی نے غور کے بعد ایجنڈا کی تجویز کی تائید کی ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ یہ مفید یہ دیا یہ منہ ہے لیکن سب کمیٹی نے ایک بات کو نہیں چھیڑا ۔ سب کمیٹی کی تجویز یہ ہے کہ جس حد تک محض یہ اقتصادی مسئلہ کا تعلق ہے کو اپریٹو سوسائٹیز کا قائم کرنا انسب ہے لیکن چونکہ اس کا شرعی پہلو علماء سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے سب کمیٹی نے اس حصہ کو چھوڑ دیا ہے ۔ حضور نے فرمایا ۔ اس سوال کے متعلق جو شرعی حصہ ہے وہ یہ ہے کہ یا تو جماعت