خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 460
خطابات شوری جلد اوّل ۴۶۰ رت ۱۹۳۱ء بھیج سکیں تو ان کے روپیہ سے ٹیلیفون لگ جائے ورنہ بجٹ میں جو گنجائش رکھی جائے اس سے لگ جائے۔“ اس پر اجلاس تین بجے ختم ہوا۔سب سب کمیٹی بہشتی مقبرہ کی دوسری تجویز کی بہشتی مقبرہ کی دوسری تجویز پیتھی کہ:- ” اگر کوئی موصی زمیندار اپنی زمین کا حصہ صدر انجمن احمد یہ کے حق میں انتقال ہبہ کرا کر موقع پر قبضہ دے دیوے تو بقیہ اراضی کی آمد پر چندہ عام واجب نہیں ہونا چاہئیے۔“ اس تجویز کے متعلق بعض ممبران کے اظہارِ خیال کے بعد حضور نے فرمایا : - تجویز یہ ہے کہ اگر کوئی موصی زمیندار اپنی زمین کا حصہ صدر انجمن احمد یہ کے حق میں انتقال ہبہ کرا کر موقع پر قبضہ دے دے تو بقیہ اراضی کی آمد پر چندہ عام واجب نہیں ہونا چاہیئے۔اس کے خلاف دو دلیلیں دی گئی ہیں۔ایک یہ کہ ایک دفعہ نیکی کر کے ساری عمر کام نہیں آسکتی۔شریعت دوام چاہتی ہے تا کہ روزانہ زندگی پر اس نیکی کا اثر پڑے۔اگر ایک دفعہ نیکی کرائی گئی تو باقی زندگی میں اس نیکی میں حصہ نہ لیا جا سکے گا۔دوم اگر یہ جائز ہے کہ ایک دفعہ جائیداد سے حصہ وصیت دے دینے والا پھر چندہ دینے سے آزاد ہو جاتا ہے تو پھر آمد کا حصہ دینے کے بعد کیوں اس کی آمد سے پیدا کردہ جائیداد سے حصہ لیا جائے۔دوسری بات کا یہ جواب ہے کہ اگر کوئی نئی زمین پیدا کرے گا تو اس کے ۱۰ را حصہ کا بھی اسے ہبہ کرنا ہوگا۔اب جو دوست سب کمیٹی کی تجویز کی تائید میں ہیں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ فیصلہ ۲۲۲ را ئیں شمار ہوئیں دو 66 ” جو دوست اس تجویز کے خلاف ہیں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۲۹ را ئیں گنی گئیں دو گویا سب کمیٹی کی تجویز کے حق میں نہایت کثرت رائے ہے چونکہ یہ کوئی ایسا سوال نہیں ہے جس کا فوراً نتیجہ دکھایا جا سکے۔اس کے مفید یا مضر ہونے کا پتہ آئندہ