خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 461
خطابات شوری جلد اوّل ۴۶۱ رت ۱۹۳۱ء کے حالات سے لگے گا۔اس لئے میں باوجود اقلیت کے حق میں رائے رکھنے کے اکثریت کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔میرا خیال ہے کہ انسانی جسم جس طرح ایک وقت میں ساری عمر کی خوراک نہیں لے سکتا ، اسی طرح روح بھی ساری خوراک ایک وقت حاصل نہیں کر سکتی۔قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا اور ایک وقت پر مکمل ہوا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا درجہ قرآن کریم کے مکمل طور پر نازل ہو جانے پر مکمل ہو گیا تھا۔آپ کا جو درجہ قرآن کریم کی آخری آیت کے نازل ہونے کے وقت تھا۔وفات کے وقت اس سے بہت بڑھا ہوا تھا۔پھر جو درجہ آپ کا وفات کے وقت تھا۔آج اس سے بہت زیادہ بلند ہے۔اس تجویز کے متعلق جو بات نظر انداز کر دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو چندہ دے رہا تھا اور وفات کے بعد جائیداد کا حصہ دینا تھا وہ کئی طرح چندہ دے رہا تھا وہ اگر اپنی زمین میں سے ایک گھماؤں حصہ وصیت میں دیتا ہے تو ہم اس سے اتنی آمدنی حاصل نہیں کر سکتے جتنا چندہ وہ خود دیتا تھا پس باوجود اس کے کہ وہ ہبہ کر دیتا ہے ہم اس کی محنت مزدوری سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔تاہم اس صورت میں آمد زیادہ ہو یا نہ ہو جائیداد محفوظ مل جائے گی اور جھگڑوں سے بچ جائیں گے لیکن روحانی طور پر نقصان کا احتمال ہے جو ایک دفعہ اپنا حصہ دے چکا اسے قدرتی طور پر خیال ہو گا کہ کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں ممکن ہے حصہ دے دینے کے بعد اس کی زندگی پچاس سال تک کی ہو اس میں وہ اس نیکی سے محروم رہے گا تاہم میں کثرت کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔بایں شرط کہ پانچ سال کے بعد ایسی وصایا کی فہرست میرے سامنے پیش کی جائے اور احباب بتائیں کہ اس طریق پر عمل کرنے کا اثر کیا ہوا تجربہ سے یہ تجویز مفید ثابت ہوئی ہے یا غیر مفید۔میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے ساری جائیداد سلسلہ کو دے دی مگر بعد میں ان کے ایمان میں کمزوری آ گئی اور جب کبھی کسی دینی خدمت کے لئے انہیں کہا گیا اُنہوں نے کہہ دیا ہم نے بہت خدمت کر لی ہے، اب اور کرنے کی ضرورت نہیں۔پانچ سال کے بعد اگر ہم دیکھیں گے کہ ایسی وصایا کرنے والوں کی روحانیت میں اور سلسلہ کے متعلق اخلاص میں کوئی فرق نہیں آیا تو اسے آئندہ کے لئے جاری رکھیں گے ورنہ بند کر دیں گے۔اس وقت میں اسے پانچ سال کے لئے منظور کرتا ہوں۔چھٹے سال اس کے متعلق پھر غور ہوگا۔نام