خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 454
خطابات شوری جلد اوّل ۴۵۴ رت ۱۹۳۱ء کی ادائیگی کی ضمانت دیتا ہوں لیکن جب حصہ ادا نہ ہوگا تو وہ کہہ دے گا میں موصی کی جائیداد کا وارث نہیں ہوا۔میں نے اس بناء پر اور اس امید پر اقرار لکھ دیا تھا کہ وارث ادا کر دیں گے۔اب اگر وہ ادا نہیں کرتے تو میں کیا کروں۔شیخ محمد صدیق صاحب اس بناء پر کہتے ہیں اس طرح تکالیف زیادہ بڑھ جائیں گی کیونکہ اس صورت میں وصیت کی رقم ادا کرنے والا اخلاقی طور پر اُس کے ادا کرنے کا ذمہ وار نہ ہو گا مگر وارث اخلاقی طور پر بھی ذمہ وار ہوتا ہے اور وارث ہونے کی وجہ سے بھی۔(۲) لاش لا کر دفن نہ ہونے سے دل شکنی ہوگی اس صورت میں جو تجویز کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں جو موجودہ طریق ہے وہی رہے۔یعنی جو موقع مناسب ہو اس کے مطابق کام کیا جائے اور وہ اس طرح کہ خلیفہ وقت سے پوچھ لیا جائے۔یہ طریق تو پہلے بھی جاری ہے مگر سوال یہ ہے کہ خلیفہ اور جماعت کے جو تعلقات ہیں اس صورت میں ان تعلقات کو صدمہ پہنچتا ہے یا نہیں؟ ایسے وقت میں خلیفہ کا اس معاملہ میں دخل دینا بھی مشکلات پیدا کرتا ہے۔اگر وہ اس بات پر زور دے کہ روپیہ داخل کرو تو اُس کا تعلق محبت والا نہیں بلکہ لین دین والا سمجھا جائے گا۔اور اگر اجازت دے تو پھر سوال ہو گا کہ فلاں کو اجازت دی گئی اور فلاں کو کیوں نہیں دی گئی۔اِس وجہ سے میں اس میں دخل نہیں دیتا اور کہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کام کے لئے جو کمیٹی مقرر کی ہے اُس کے پاس جاؤ۔زیادہ سے زیادہ میں اتنی سفارش کر دیتا ہوں کہ ان حالات میں اگر نرمی کر سکیں تو کر دیں۔پس زیر بحث سوال یہ ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جس سے مشکلات حل ہو جائیں۔سب کمیٹی کہتی ہے جو موصی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا حصہ وصیت بصورت ہبہ یا نقد ادا کرنے کے بغیر فوت ہو جائے وہ اُس وقت تک مقبرہ بہشتی میں دفن نہ کیا جائے جب تک کوئی معتبر شخص اُس کا حصہ وصیت ادا کرنے کا ذمہ دار نہ ہو جائے۔لیکن اگر موصی نے حصہ وصیت کا بیشتر حصہ اپنی زندگی میں ادا کر دیا ہو اور تھوڑا باقی رہ گیا ہو تو کمیٹی دفن کرنے کی اجازت دے سکتی ہے اور اس کے لئے ورثا کی ذاتی ضمانت کافی سمجھی جائے گی۔قاعدہ کے لحاظ سے پہلے میں سب کمیٹی کی تجویز کے متعلق آراء لینا چاہتا ہوں۔جو