خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 450

خطابات شوری جلد اوّل ۴۵۰ ت ۱۹۳۱ء ضروری ہے تا کہ کسی مجلس میں وہ کوئی بے علمی کی بات نہ کریں۔دوسری بات یہ ضروری ہے کہ ان کی تربیت اعلیٰ درجہ کی ہو۔ابھی ایک دوست ایک عالم کا ذکر کر رہے تھے کہ ان کا خود تقریر کرنا تو الگ رہا اگر کوئی اور ان کا لکھا ہو امضمون ان کے سامنے سنائے تو وہ کانپنے لگ جاتے تھے۔غرض تربیت نہایت ضروری ہے۔نہ صرف اخلاق کی بلکہ اپنے پیشہ کی بھی۔اس کے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی۔موقع اور محل کے لحاظ سے جو شخص اپنی قابلیت صرف نہیں کر سکتا وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص کی حالت کو مدنظر رکھ کر اُس سے کلام کرے۔اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں۔ایک تو یہ کہ مبلغوں کا ایسا علم ہو کہ دوسروں سے اس علم میں پیچھے نہ ہوں۔دوسرے تربیت ایسی ہو کہ نہ صرف خود نیک ہوں بلکہ دوسروں کو نیک بناسکیں۔ان دونوں باتوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کی نگرانی کرنے والا محکمہ ہو۔لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی چادر کو دیکھ کر پاؤں پھیلائیں۔مالی مشکلات پہلے ہی زیادہ ہیں ان کا بھی لحاظ رکھنا ضروری ہوگا۔آمد کا بجٹ بجٹ کے متعلق اس موقع پر میں صرف ایک اشارہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ پچھلے سال جو کمیشن بیٹھا تھا اُس کے کہنے پر یہ تجویز کی گئی تھی کہ آمد کا بھی بجٹ ہوا کرے۔اس سے قبل اس کی اہمیت پر غور کرنے کا موقع نہ ملا تھا اب کے دیکھا کہ باوجود اس کے کہ ملک کی مالی حالت بہت کمزور رہی ، ہر صوبہ کی گورنمنٹ گھاٹے میں رہی مگر میرا خیال ہے بیت المال کی حالت پہلے سے اچھی رہی اور اگر اچھی نہیں رہی تو پہلے سے بُری بھی نہیں رہی۔محاسب کہتا ہے کہ اس سال پانچ ہزار زیادہ قرض ہے گزشتہ سال کی نسبت مگر جب یہ دیکھا جائے کہ پچھلے سال ۲۵ فیصدی چندہ مانگا گیا تھا مگر اس سال صرف ۸ فیصدی لیا گیا اور وہ بھی وصیت کرنے والوں اور بجٹ کی مقررہ رقم پوری کرنے والوں سے نہ لیا گیا۔اگر اب کے بھی اتنا ہی چندہ لیا جاتا تو آمد بڑھ جاتی۔پھر گزشتہ سال میں نے ۱۲ ہزار قرضہ دلایا تھا مگر اب کے نہیں۔یہ آمد کا بجٹ بنانے کا نتیجہ ہوا کہ جماعتوں کو خیال رہا کہ آمد کا بجٹ پورا کرنا ضروری ہے۔بہت کمیٹی کو ہدایت دوسری تجویز یہ تھی کہ نادہند جماعتوں پر زیادہ بوجھ ڈالا جائے۔یہ بھی بہت مفید ثابت ہوئی۔ان دو تجاویز کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہم بغیر