خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 442
خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۲ رت ۱۹۳۱ء کے طلباء کی آپس میں واقفیت ہو جاتی ہے اور اس سے بڑے بڑے کام نکل سکتے ہیں۔پس مدرسہ احمدیہ کی طرف بھی احباب کو توجہ کرنی چاہئے۔قادیان آنا پھر لنگر خانہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے بشرطیکہ دوست قادیان کثرت سے آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرمایا کرتے تھے جو شخص بار بار قادیان نہیں آتا مجھے اُس کے ایمان کا خطرہ ہے۔یہ بات جیسے پہلے درست تھی اب بھی درست ہے۔جو لوگ قادیان نہیں آتے اُن کے دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ جس بستی کو دُنیا کے فیض پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے اسے برکات کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب ضرورت ہوتی ہے تو اُس مقام پر رسول بھیجا جاتا ہے جو دنیا کے لئے بطور ماں کے ہوتا ہے اور جو بچہ ماں کی چھاتی سے دودھ نہیں پیتا وہ کمزور ہو جاتا ہے اور جلد ترقی نہیں کر سکتا۔پس اگر کسی کو یہ نظر نہ بھی آئے کہ قادیان آنا مفید ہے تو جب خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قادیان کو اس زمانہ میں دُنیا کے لئے ماں کا درجہ دیا گیا ہے تو ضرور اس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔اپنے علاقہ میں تبلیغ پھر تبلیغ کے لئے میں نے یہ تحریک کی ہے کہ اپنے اپنے اپنے علاقوں میں احباب کام کریں اور ہر فرد کو اس میں حصہ لینا چاہئے۔اس کے لئے میں نے سکیمیں تجویز کی ہوئی ہیں۔احباب کو ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ ہر جگہ ہماری آواز پہنچ جائے۔بجٹ پورا کیا جائے پھر جب بجٹ پاس ہو جائے تو تمام جماعتوں اور ان کے تمام افراد کا فرض ہے کہ اسے پورا کریں۔جب آمد بجٹ کے مطابق نہیں ہوتی تو سلسلہ کے کاروبار کو نقصان پہنچتا ہے۔روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے مبلغ تبلیغ کے لئے سفر نہیں کر سکتے اور کئی ضروری اور اہم کام رُک جاتے ہیں۔پس بجٹ کو پوری کوشش سے پورا کرنا چاہئے۔اقتصادی حالت کی اصلاح کی تجاویز اس دفعہ کے ایجنڈا میں اقتصادی ترقی کے لئے کئی تجاویز کا ذکر ہے۔اس وقت ہماری جماعت کی اقتصادی حالت بہت گری ہوئی ہے۔اس کے درست کرنے کے لئے