خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 440

خطابات شوری جلد اوّل ۴۴۰ رت ۱۹۳۱ء وہ سے ہو۔میں نے غور کیا ہے کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی مصیبت تمدنی اور اقتصادی کمزوری ہے۔۱۹۲۷ء میں جب میں نے اعلان کیا کہ مسلمان ہندوؤں کے ہاتھ کی و چیزیں نہ کھائیں جو وہ مسلمانوں کے ہاتھ کی نہیں کھاتے تو بنگال کے ایک ہندو لیڈر نے لکھا تھا کہ مسلمانوں کو سیدھا کرنا کوئی مشکل نہیں ہے ہندو ان کے ہاتھ سودا بیچنا بند کر دیں۔عام طور پر دُنیا میں سو دا لینا طاقت بڑھانے کا موجب سمجھا جاتا ہے لیکن ہندوؤں کو مسلمانوں پر اتنی فوقیت حاصل ہو چکی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اگر مسلمانوں کو سو دا دینا بند کر دیں تو مسلمان شیخ اُٹھیں گے اور واقعات کے لحاظ سے یہ درست بھی ہے۔اب تو لوگ خود ولایتی مال نہیں خریدتے اور لوگ خود اس تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر اس سے پہلے انگریز یہ اعلان کر دیتے کہ ہندوستانیوں کے ہاتھ کوئی انگریزی مال فروخت نہ کیا جائے تو لوگ شور مچا دیتے کہ ہم گزارہ کس طرح کریں۔اب لوگوں میں بیداری پیدا ہو گئی ہے اس لئے وہ خود کہتے ہیں کہ ہم ولایتی مال نہیں لیتے مگر مسلمانوں کی ابھی تک یہی حالت ہے کہ اگر ہندو انہیں سو دا نہ دیں تو مسلمانوں کی رہی سہی تجارت بھی تباہ ہو جائے۔اب انگریزوں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ساری تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے اور انہوں نے مل کر گورنمنٹ کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کر لیا۔اس وقت باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے لئے موقع تھا کہ تجارت میں ترقی کر سکتے مگر انہوں نے کوئی ترقی نہیں کی بلکہ اور زیادہ گر گئے ہیں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے تجارتی کارخانوں سے تعلقات نہ تھے اور وہ براہ راست خود مال نہ خرید سکے۔پھر اس طرح بھی ان کو نقصان پہنچا کہ تاجروں کی کمیٹی اعلان کر دیتی کہ بدیشی مال بند کیا جاتا ہے۔اس پر مسلمان سستے داموں اپنا مال بیچ دیتے اور اس کے بعد ہندو مال بیچنا کھول دیتے۔اس طرح بھی مسلمانوں کو تباہ کر دیا گیا۔اس صورتِ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تبلیغ کو زیادہ وسیع کریں۔تبلیغ ہی ہماری جان ہے۔اگر ہم یہ بات سمجھ لیں اور ضرور سمجھنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے یہ اشاعت ہدایت کا زمانہ ہے۔اب بھی اگر ہم یہ بات نہ سمجھیں اور تبلیغ کے متعلق کو تا ہی کریں تو پھر اور کون سا ذریعہ سمجھانے کا ہو سکتا ہے۔ہم نے