خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 433
خطابات شوری جلد اوّل ۴۳۳ رت ۱۹۳۱ء متعلق ملنے گیا تو آپ کی کتاب پر نشان لگا کر لے گیا تا کہ ان باتوں کی بناء پر بحث کریں۔غرض اب وہ وقت آ گیا ہے جب ہماری سیاسی رائے کو صحیح تسلیم کیا جا رہا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری طرف سے مسلمانوں کی خیر خواہی اور ان کے حقوق کی حفاظت کسی نفسانیت کے ماتحت نہیں ہوئی۔اگر ہمارے اندر نفسانیت ہوتی اور ہم اپنے ذاتی فوائد اور اغراض پیش نظر رکھتے تو ہم بھی صحیح نتیجہ پر نہ پہنچ سکتے۔پس خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کو ایسی پوزیشن حاصل ہوگئی ہے کہ نہ صرف دین کی ترقی کا انحصار ہم پر ہے بلکہ کم از کم ہندوستان میں مسلمانوں کی دُنیوی ترقی کا انحصار بھی ہم پر ہی ہے اور نہ صرف مسلمانوں کی دنیوی ترقی کا بلکہ سارے ہندوستان کی ترقی کا انحصار ہم پر ہے۔اس صورت میں ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم جابے جا مسلمانوں ہی کی حمایت کریں بلکہ ہمارا یہ فرض ہے کہ جس پر ظلم اور زیادتی ہو اُسی کی حمایت کریں خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان اور اس بات کو غیر مسلم معززین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری ہمدردی وسیع ہے۔مسلمانوں پر نازک وقت ہمیں یہ جو پوزیشن حاصل ہو چکی ہے اس کی وجہ سے ہمارا کام اور زیادہ نازک ہو گیا ہے۔دُنیا مذہبی لحاظ سے نجات کے لئے ہی نہیں بلکہ سیاسی ، تمدنی اور معاشرتی نجات کے لئے بھی ہمیں بلا رہی ہے۔غرض وہ وقت آ گیا ہے جس کے متعلق آج سے کچھ عرصہ قبل میں نے اشارہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ وقت قریب ہے جب کہ ایسے تغیرات ہوں کہ اگر مسلمانوں نے ہوشیاری سے کام نہ لیا اور اللہ تعالیٰ کا فضل جذب کرنے کی تدبیر نہ کی تو ہندوستان میں مسلمان اسی طرح تباہ ہو جائیں گے جس طرح سپین میں ہوئے۔جس طرح یہ ممکن ہے اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ اگر مسلمان ہوشیاری سے کام لیں، خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت کام کریں تو یہ ملک جس میں شرک کی انتہاء نہیں ، جہاں ۳۳ کروڑ دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی ہے وہاں ایسے سامان کر دے کہ سارے دیوتا غائب ہو کر واحد خدا کی عبادت ہونے لگے۔ظاہری طور پر تو دونوں باتیں ممکن ہیں مگر باطنی لحاظ سے ایک ہی ممکن ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی توحید قائم ہوگی اور ضرور قائم ہوگی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے پھیلانا اور غالب کرنا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے ہاتھوں ہی اسلام غالب ہو گا جب تک ہم اس کے