خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 432
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۴۳۲ رت ۱۹۳۱ء جائے تب بھی میں توحید کی تعلیم دینے سے نہ رکوں گا۔سے یہ وہ نمونہ ہے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کام کے متعلق استقلال کا دکھایا اور ہر مومن کو اپنے کام میں اسی قسم کا استقلال دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔مومن کا یہ کام نہیں کہ جب کام شروع کرے تو اس لئے چھوڑ دے کہ لوگ اُس پر ہنستے ، اُس کی باتیں نہیں سنتے اور اُس کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ مومن کا فرض یہ ہے کہ لوگوں کی عادتوں، زبانوں اور دلوں کو بدل دینے کی کوشش کرے اور اس کوشش میں لگا رہے۔جماعت احمدیہ کی موجودہ پوزیشن ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ کے فضل سے اب ایسی پوزیشن حاصل ہو چکی ہے جو اور کسی کو حاصل نہیں ہے۔ایک طرف ہماری جماعت جہاں اس بات کے لئے مقرر ہے کہ دُنیا سے تاریکی کو مٹا کر روشنی قائم کرے، شرک کو مٹا کر تو حید قائم کرے وہاں خدا ہی کے فضل کے ماتحت ہم سمجھتے ہیں کہ ہند میں سیاسیات کا حل بھی ہمارے ہی ساتھ وابستہ ہے۔مجھے یاد ہے جب پہلے پہل میں نے سیاسی امور کے متعلق قلم اُٹھایا تو اپنی جماعت کا بیشتر حصہ خیال کرتا تھا کہ یہ اپنی حد سے تجاوز ہے اور دوسروں کا بیشتر حصہ تو یہ کہتا کہ انہیں کیا سو جبھی ہے۔ایک دور افتادہ گاؤں میں بیٹھ کر سیاسیات پر رائے زنی کرنے لگ گئے ہیں۔ان کی بات گون سُنے گا اور کون اسے وقعت دے گا۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک معزز شخص کے متعلق بتایا اُنہوں نے کہا یہ کس طرح ممکن ہے کہ ریلوے سٹیشن سے بھی گیارہ میل دور ایک گاؤں میں بیٹھ کر سیاسیات پر بحث کی جاسکتی ہے جو کہ روز بروز بدلتی رہتی ہیں۔غرض ایسی جگہ بیٹھ کر ہم نے یہ کام شروع کیا مگر جو خیالات ہم نے اُس وقت پیش کئے آج مسلمانوں کی اکثریت اُن کی تائید میں ہے۔اور پہلے اگر یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ ایک گاؤں میں بیٹھ کر انہیں جرات ہی کیونکر ہوئی ہے کہ سیاسیات پر مضامین لکھیں اور مشورے دیں۔اب جو کتابیں میں نے سیاسی معاملات کے متعلق لکھی ہیں، دوستوں نے بتایا کئی لوگ کہتے ہیں باہر سے لکھ کر بھیج دی جاتی ہیں اور ان کے نام سے شائع کر دی جاتی ہیں۔گویا اب یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ میرے نام سے شائع ہوتا ہے وہ میں نہیں لکھ سکتا کوئی اور لکھ دیتا ہے۔پرسوں ہی ایک دوست کی پیٹھی آئی جس میں وہ لکھتے ہیں مسلمانوں کا ایک وفد مسلمانوں کے حقوق کے