خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 417

خطابات شوری جلد اوّل ۴۱۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء سناتے وقت اس بات کا احساس ہوتا کہ کم وصول کیا گیا ہے۔مگر اب پہلے ہی کم کر کے بجٹ رکھا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے اتنا زیادہ روپیہ جمع کیا گیا۔اس طرح غلط طور پر بیت المال تعریف کا مستحق بن جاتا ہے حالانکہ وہ اس سے بہت کم وصول کرتا ہے جتنا وصول ہونا چاہئے۔پس سب کی تشخیص کر کے آمد مقرر کرنی چاہئے اور آمد کا بجٹ اس لحاظ سے مقرر کرنا چاہئے۔پھر اسے وصول کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جو کم دیں یا نہ دیں اُن کے نام نوٹ ہو جانے چاہئیں۔ایثار سے ترقی ہوتی ہے اس بات کی طرف ایک صاحب نے توجہ دلائی ہے کہ ہر سال بجٹ کم کر کے جماعت کے عمل کرنے کی روح کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔یہ بھی صحیح ہے ایثار سے ترقی ہوتی ہے اور ایمانی روح پیدا ہوتی ہے۔ہر سال جتنا خرچ کم کرتے جائیں گے اور سستی پیدا ہوتی جائے گی۔جب بجٹ گھٹانے کا سوال پیدا ہوا تھا اُسی وقت میں نے کہا تھا جو قوم اپنا قدم پیچھے ہٹاتی ہے اُسے تنزل ہی ہوتا جاتا ہے۔برلن مشن بند کرنے کے بعد ہر سال یہی تحریک ہوتی ہے کہ فلاں کام بند کر دو، فلاں کام میں تخفیف کر دو۔اس سے مجھے ڈر ہے کہ سارے دروازے بند نہ کر دیں کیونکہ پیچھے قدم ہٹانا نہایت خطرناک ہوتا ہے۔جب سے آمد کا بجٹ کم کرنے لگے پیچھے ہی پیچھے ہوتے گئے۔ریز روفنڈ اگرچہ یہ بات خطرناک ہے کہ خیالی آمد تین لاکھ کر کے خرچ بھی اتنا ہی رکھیں لیکن خرچ اگر اصل اندازہ آمد کے مطابق رکھیں اور ریز رو فنڈ مضبوط کریں تو کام عمدگی سے چل سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سال کا خرچ بیویوں کو دے دیتے تھے مگر ہمارا یہ حال ہے کہ تین تین ماہ کے بعد تنخواہ دیتے ہیں۔ہمارے ہاں کم از کم ایک سال کا خرچ ریز رو ہونا چاہئے کیونکہ کئی قسم کی دشتیں پیش آسکتی ہیں۔۱۹۱۹ء میں جب ملک میں فتنہ پیدا ہو گیا تھا تو چندے کم آنے لگے تھے اور اس طرح بہت نازک حالت ہو گئی تھی۔پس کم از کم ایک سال کا خرچ محفوظ ہونا چاہئے تا کہ مشکلات کے وقت چندہ میں جو کمی ہو اسے پورا کیا جا سکے۔غرض آمد کے بجٹ کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔پیر اکبر علی صاحب نے بجٹ بجٹ بناتے وقت احتیاط سے کام لینا چاہئے کے متعلق جن باتوں کی طرف