خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 414

خطابات شوری جلد اوّل ۴۱۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء تیسرادن مجلس مشاورت کے تیسرے دن اجلاس کی کارروائی تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوئی اس کے بعد حضور نے فرمایا: - اس سے مجھے خوشی ہوئی ہے کہ بجٹ کی اصلاح میں ترقی ہو رہی ہے۔گو دھیمے طور پر محصلوں کا کام ہے۔اور اس عمدگی سے بحث ہوتی ہے اور معلوم ہو گیا ہے کہ نقائص کی اصلاح سے فائدہ ہوسکتا۔مثلاً محصلوں کا سوال ہے، میں ان کے اُڑانے سے کبھی متفق نہ ہوا تھا لیکن کل سمجھ میں آ گیا کہ وہ جس طریق پر کام کرتے ہیں وہ مفید نہیں ہے اور کل کی گفتگو سے معلوم ہو گیا کہ ان کا موجودہ طریق عمل نقصان دہ ہے۔محصل اب بھی رکھنے چاہئیں مگر ان کے کام کی اصلاح ہونی چاہئے۔مرزا احمد بیگ صاحب کی تقریر سے وضاحت سے معلوم ہو گیا کہ چندہ کی وصولی میں جو نقص ہے اُس کا علاج سوائے محصلوں کے اور کوئی نہیں ہے۔ان کی بیان کردہ مثال سے واضح ہو گیا کہ نقص کیا ہے۔ایک جماعت کی تعداد پچاس ساٹھ ہوتی ہے لیکن اُس میں سے صرف ۱۲٬۱۱ اصحاب چندہ ادا کر کے اپنا بجٹ پورا کر دیتے ہیں اور مرکز میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس جماعت نے بجٹ پورا کر دیا حالانکہ جماعت نے بجٹ پورا نہیں کیا ہوتا بلکہ چند افراد نے کیا ہوتا ہے اور چندہ نہ دینے والوں کا پتہ ہی نہیں لگتا۔اس طرح وہ حقیقی بجٹ پورا نہیں ہو سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے مقرر ہے۔اس کا نقص یہ ہے کہ مثلاً ایک جماعت جس کے افراد سو کے قریب ہوں اُس کے بہت سے اصحاب چندہ ادا کریں لیکن بجٹ پورا نہ ہو تو ناظر لکھ دے گا کہ تمہارا بجٹ پورا نہیں ہوگا اور اس طرح وہ ملامت کے مستحق قرار دیئے جائیں گے لیکن ایک جماعت جس کے بہت سے افراد میں سے صرف چند ایک بجٹ پورا کر دیں گے اور باقی حصہ نہ لیں تو اُسے قابلِ تعریف قرار دیا جائے گا۔بجٹ کس طرح مقرر ہوں اس کی وجہ یہی ہے کہ محصل صرف جمع مھدہ روپیہ بھجوا دیتے ہیں اصل کام نہیں کرتے اس لئے میں آئندہ کے لئے ہدایت دیتا ہوں کہ جماعتوں کے بجٹ خیالی طور پر یہاں بیٹھے مقرر نہ کئے جائیں بلکہ محصل