خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 413

خطابات شوری جلد اوّل ۴۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء ہے اور جس نے اعتراض کیا ہے اُس نے خود قرض لیا تھا مگر ادا کرنے کے لئے جو وقت مقرر ہوا تھا اس کے بعد جواب دینا بھی چھوڑ دیا تھا۔اعتراض کرنے کا یہ طریق غلط ہے۔جس طرح شملہ والوں نے یہ اعتراض پہنچا دیا اس طرح کوئی اور کرے تو وہاں کے لوگوں کو بھی اس کے متعلق اطلاع دینی چاہئے تا کہ جو لوگ بدظنی میں مبتلا ہوں اُن کی اصلاح کی جا سکے مگر افسوس دوستوں کی اس طرف بہت کم توجہ ہے جس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ جو بگڑتا ہے وہ بگڑتے بگڑ تے اُس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ پھر اُس کی اصلاح مشکل ہو جاتی ہے۔“ ناظر صاحب بیت المال کی بجٹ تقریر کے بعد حضور نے فرمایا: - میں ناظر صاحب بیت المال کی تقریر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ بعض تخفیفیں بجٹ کی جب میرے سامنے پیش ہوئیں تو میں نے ان کو رڈ کر دیا۔میں فطرتا اس بات کو نا پسند کرتا ہوں کہ کوئی قدم اٹھا کر پیچھے ہٹایا جائے لیکن اگر کسی خرچ کی وجہ سے کسی دوسرے مستقل اور زیادہ اہم کام کو نقصان پہنچے تو اسے بچانے کے لئے اگر کوئی خرچ کم کیا جا سکے تو کم کر دینا چاہئے۔میں نے یہ کہا تھا کہ جن اخراجات کی میں مجلس شوری کے مشورہ کے بعد منظوری دے چکا ہوں ان کو بجٹ بناتے وقت آپ ہی آپ رڈ نہیں کر دینا چاہئے بلکہ اس معاملہ کو پھر مجلس شوریٰ میں غور کے لئے پیش کریں۔وہاں غور کے بعد جو فیصلہ ہو اُس پر عمل کیا جائے کیونکہ میں نے بجٹ کا پاس کرنا مجلس شوری کے سپر د کیا ہوا ہے اور جس طرح کل میں نے کہا تھا کہ مجلس معتمدین مجلس شوری کے ماتحت نہیں اسی طرح کہتا ہوں کہ مجلس شوری کے سپر د جو کام ہے اس میں مجلس معتمدین کو دخل نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد سب کمیٹی مال کا تقرر فرمایا اور ممبران سب کمیٹی کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا:- 66 بجٹ پر پوری آزادی سے غور کریں لیکن خیال رکھیں کہ حتی الوسع پیچھے نہ ہٹنا پڑے۔تبلیغ کے کام کو بند اور کم نہ کیا جائے۔نئے مبلغ رکھے جاتے ہیں وہ جاری رہیں بلکہ تعلیم و تربیت کے ماتحت مدارس میں بھی مبلغ رکھے جائیں تا کہ جو مبلغین کلاس کے فارغ التحصیل ہوں وہ کام پر لگائے جاسکیں۔اگر پیچھے ہٹنا ضروری ہو تو دلیری سے بجٹ کم کر دیں۔آمد جو مقرر ہو وہ ایسی ہو جو وصول ہو جائے۔“