خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 412

خطابات شوری جلد اول ۴۱۲ کا مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء سے انگریز نومسلم کو اب مشتری را ادانان ناظر صاحب کو بتانا چاہئے تھا کہ امام مسجد لنڈن سے پوچھا گیا تھا کہ کیوں ان کا نائب کوئی انگریز نو مسلم نہ رکھا جائے؟ انہوں نے اسے مفید نہیں بتایا۔ اس لئے اس بات کو چھوڑ دیا گیا۔ نور ہسپتال کے لئے لیڈی ڈاکٹر ایک سوال نور ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر رکھنے کے متعلق تھا۔ اس کا جواب بھی مشتبہ سا ہے، صاف طور پر نہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ اسی مجلس مشاورت میں رڈ ہو چکا ہے۔ ریز روفنڈ سوال نمبر ۹ کا جواب بھی غلطی میں ڈالنے والا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ناظر صاحب بیت المال فرمائیں گے کہ ریز روفنڈ کی مد میں کچھ روپیہ ہے؟ اگر ہے تو کس قدر؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ خرچ شدہ روپیہ کے علاوہ باقی کتنی رقم ہے؟ بتانا یہ چاہئے تھا کہ اس فنڈ میں ۴۳ ۴۴ ہزار روپیہ جمع ہوا جس سے کئی چیزیں گروی رکھ کر آمد پیدا کی گئی ہے۔ تین ہزار کے قریب روپیہ ایسا ہے جسے ابھی کسی جگہ لگا یا نہیں گیا اس کے لئے بھی کوشش ہو رہی ہے کہ زمین خرید لی جائے ۔ دراصل لوگوں نے اس فنڈ کے جمع کرنے میں بہت کم توجہ کی ہے۔ اگر پانچ پانچ روپے بھی دوست ماہوار جمع کرنے کی کوشش کرتے تو بہت کچھ جمع کر سکتے تھے۔ بعض نے تو کہا تھا کہ وہ لاکھ لاکھ روپیہ جمع کر سکتے ہیں مگر نہ معلوم انہوں نے کیوں نہ کیا ۔ اگر دوست اس طرف توجہ کریں تو ۴۵ لاکھ کا جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں اور اس سے بہت کافی آمدنی ہو سکتی ہے۔ اس وقت تک ریز روفنڈ کا زیادہ حصہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جمع کیا ہے اور انہوں نے ایک معقول رقم جمع کی ہے۔ بڑی رقموں کے لحاظ سے چوہدری صاحب کی رقم بہت بڑی رقم ہے۔ امید ہے اب دوست توجہ کریں گے۔ جنہوں نے پہلے اس کام کے لئے نام نہیں لکھائے وہ اب لکھا دیں۔ پانچ روپیہ ماہوار جمع کرنا کوئی بڑی بات نہیں ۔ ایک اعتراض کا جواب کہا گیا ہے کہ اس فنڈ سے ۳۰ ہزار روپیہ کسی کودے دیا گیا حالانکہ لوگ ٹھو کے مر رہے ہیں لیکن اس رقم میں ایک بڑی ، جائیدا در گروی رکھی گئی ہے جس کا سو روپیہ ماہوار کرا یہ آتا ہے۔ گویا یہ رقم آمدنی پر لگائی گئی