خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 412
خطابات شوری جلد اوّل ۴۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء انگریز نو مسلم کو نائب مشنری رکھنا سوال نمبر 1 کا جواب بھی تفصیل سے نہیں دیا گیا۔ناظر صاحب کو بتانا چاہئے تھا کہ امام مسجد لنڈن سے پوچھا گیا تھا کہ کیوں ان کا نائب کوئی انگریز نومسلم نہ رکھا جائے؟ انہوں نے اسے مفید نہیں بتایا۔اس لئے اس بات کو چھوڑ دیا گیا۔نور ہسپتال کے لئے لیڈی ڈاکٹر ایک سوال نور ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر رکھنے کے متعلق تھا۔اس کا جواب بھی مشتبہ سا ہے،صاف طور پر نہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ اسی مجلس مشاورت میں رڈ ہو چکا ہے۔ریز روفنڈ سوال نمبر 1 کا جواب بھی غلطی میں ڈالنے والا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ناظر صاحب بیت المال فرمائیں گے کہ ریز روفنڈ کی مد میں کچھ روپیہ ہے؟ اگر ہے تو کس قدر؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ خرچ ھدہ روپیہ کے علاوہ باقی کتنی رقم ہے؟ بتانا یہ چاہئے تھا کہ اس فنڈ میں ۴۳ ۴۴ ہزار روپیہ جمع ہوا جس سے کئی چیزیں گروی رکھ کر آمد پیدا کی گئی ہے۔تین ہزار کے قریب روپیہ ایسا ہے جسے ابھی کسی جگہ لگا یا نہیں گیا اس کے لئے بھی کوشش ہو رہی ہے کہ زمین خرید لی جائے۔۔دراصل لوگوں نے اس فنڈ کے جمع کرنے میں بہت کم توجہ کی ہے۔اگر پانچ پانچ روپے بھی دوست ماہوار جمع کرنے کی کوشش کرتے تو بہت کچھ جمع کر سکتے تھے۔بعض نے تو کہا تھا کہ وہ لاکھ لاکھ روپیہ جمع کر سکتے ہیں مگر نہ معلوم انہوں نے کیوں نہ کیا۔اگر دوست اس طرف توجہ کریں تو ۴۵ لاکھ کا جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں اور اس سے بہت کافی آمدنی ہو سکتی ہے۔اس وقت تک ریز روفنڈ کا زیادہ حصہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے جمع کیا ہے اور انہوں نے ایک معقول رقم جمع کی ہے۔بڑی رقموں کے لحاظ سے چوہدری صاحب کی رقم بہت بڑی رقم ہے۔امید ہے اب دوست توجہ کریں گے۔جنہوں نے پہلے اس کام کے لئے نام نہیں لکھائے وہ اب لکھا دیں۔پانچ روپیہ ماہوار جمع کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ایک اعتراض کا جواب کہا گیا ہے کہ اس فنڈ سے ۳۰ ہزار روپیہ کسی کو دے دیا گیا حالانکہ لوگ بُھو کے مر رہے ہیں لیکن اس رقم میں ایک بڑی جائیدا در گروی رکھی گئی ہے جس کا سو روپیہ ماہوار کرا یہ آتا ہے۔گویا یہ رقم آمدنی پر لگائی گئی