خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 409
خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء ہیں کہ جواب میں لکھی ہوئی تحریر پڑھ دیں اور صرف پڑھ دینے میں آواز اتنی بلند نہیں ہوسکتی۔وظائف کے متعلق طریق ایک دوست کا سوال وظائف کے متعلق تھا جس کی غرض یہ بیان کی گئی ہے کہ جب وظائف کی درخواست کرنے والوں کے نام شائع ہوں گے تو کئی لوگ وظیفہ لینے کی خواہش نہ کریں گے اور جب لوگوں کو ناموں کا علم ہوگا تو وہ اندازہ لگا سکیں گے کہ درخواست کرنے والا حاجت مند ہے یا نہیں۔بے شک یہ بھی ضرورت کا پتہ لگانے کا ایک طریق ہے۔لیکن جب یہ قاعدہ پاس ہو چکا ہے کہ جو وظیفہ لے اپنی مقامی جماعت کی سفارش سے لے تو یہ نقص دور ہو سکتا ہے کہ کوئی بلا وجہ اور بلا ضرورت وظیفہ نہ لے جائے۔رہا نام شائع کرنا یہ اصول شریعت کے خلاف ہے۔قرآن میں اس بات پر خاص طور سے زور دیا گیا ہے کہ صدقہ اور خیرات خفیہ دینی چاہئے۔وجہ یہ کہ قرآن نے اعزاز نفس قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔قرآن نے بتایا ہے کہ بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اُن کی شکلوں سے معلوم ہوسکتا ہے وہ حاجت مند ہیں وہ زبان سے نہیں بتاتے۔پس ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خواہ کس قدر تنگ دست اور مجبور ہوں اپنی تنگی کی عام تشہیر گوارا نہیں کرتے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کو اپنے چند مخصوص دوستوں کے سامنے پیش کر دیں مگر یہ کہ عام لوگوں میں ان کی غربت اور مفلوک الحالی کا اعلان ہو یہ پسند نہیں کریں گے۔وہ یہ تو گوارا کر لیں گے کہ ان کا بچہ تعلیم سے محروم رہ جائے مگر یہ پسند نہیں کریں گے کہ ان کے نام کو حاجت مندوں کے طور پر شائع کیا جائے اور یہ طریق اعزاز نفس کے خلاف ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دیکھیں کوئی غیر مستحق ناجائز طور پر وظیفہ نہ لے اور یہ پہلے طریق پر جو پاس ہو چکا ہے عمل کرنے سے ہوسکتا ہے۔کچھ حصہ وظائف کو میں اس قاعدہ سے مستثنیٰ کرتا ہوں۔ان میں قابلیت کا وظیفہ بھی ہونا چاہئے۔باقی وہی وظیفے دیئے جائیں گے جن کے لئے مقامی انجمنیں سفارش کریں گی۔چونکہ حاجت مندوں کے نام شائع کرنے سے ان کی سبکی ہوتی ہے اس لئے شریعت جائز نہیں رکھتی۔فیصلہ شدہ امور پر عمل یہ جو سوال کیا گیا ہے کہ مجلس مشاورت میں فیصلہ شدہ کس قدر امور پر عمل ہوا اور کتنے امور پر عمل نہیں ہوا اس کا نقشہ پیش