خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 408

خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کمیشن کے ممبروں سے اُمید کمیشن کے ممبروں سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ نڈر ہو کر رپورٹ کریں کہ فلاں ناظر ہدایات اور قواعد کی تعمیل نہیں کرتے۔کمیشن کے ممبر میرے نائب ہوتے ہیں اور ایک رنگ میں خلیفہ ہی ہوتے ہیں۔انہیں جو بات قابل اصلاح نظر آئے اور جس میں کوئی نقص دیکھیں، اُسے پوری جرأت اور دلیری سے پیش کریں۔اگر کوئی کارکن اپنا کام نہ کر سکے تو اُس کی رپورٹ کریں تا کہ اُس کی جگہ اور انتظام کیا جائے۔“ دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۱۹ اپریل ۱۹۳۰ء کو اجلاس شروع ہونے پر احباب کی طرف سے سوالات پیش ہوئے۔جن کے متعلقہ ناظر صاحبان نے جواب دیئے۔سوال وجواب کے اس سلسلہ پر حضوڑ نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے فرمایا : - اس وقت سوالات کے جو جوابات پڑھے گئے ہیں ان کے متعلق میں بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں۔اوّل تو میں یہ کہتا ہوں۔گو یہ طریق نمائندہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے لیکن میں افسوس کرتا ہوں کہ ناظر صاحبان جوابات کے لئے پورے طور پر تیار ہو کر نہیں آتے اور ان کے بعض جوابات غلط فہمی پیدا کرنے والے ہیں اگر چہ صحیح اور تسلی بخش جوابات موجود تھے۔اگر وہ نقالی نہ کرتے اُن گورنمنظوں کی جن کا کام معترضین کا منہ بند کرنا اور دھوکا دے کر پیچھا چھڑانا ہوتا ہے بلکہ تفصیل میں چلے جاتے تو مکمل جواب ہوسکتا تھا۔اونچی آواز دوسرے ہر سال یہ شکایت پیدا ہوتی ہے کہ جواب اونچی آواز سے نہیں دیئے جاتے۔یہ صاف بات ہے کہ جب تک لوگوں تک آواز نہ پہنچے وہ جواب سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔متواتر توجہ دلانے کے باوجود کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ آواز اتنی دھیمی کیوں ہوتی ہے۔معلوم نہیں ناظر سوال کی وجہ سے رعشہ براندام ہو جاتے ہیں اس لئے وہ اچھی طرح آواز نہیں نکال سکتے یا جواب دینا چپٹی سمجھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ چند الفاظ کہہ کر بیٹھ جائیں۔اصل بات یہی ہے کہ سوال کا جواب پورے طور پر تیار نہیں کیا ہوتا وہ اپنا یہی کام سمجھتے