خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 407

خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء اس وقت پہلے کمیشن کے ایک ہی ممبر موجود ہیں۔ان سے میں دریافت کرتا ہوں کیا وہ دوسری بار بھی کام کرسکیں گے؟“ خانصاحب چوہدری نعمت خان صاحب نے عرض کیا کہ کر سکوں گا۔میں انہیں ممبر مقرر کرتا ہوں۔دوسرے ممبر چونکہ آئے نہیں اس لئے ان میں سے کسی کو مقر ر نہیں کیا جا سکتا۔دو اور ممبر ہوں اور یہ کمیشن جون ۱۹۳۱ء تک رپورٹ مرتب کر کے دے سکتا ہے۔نظارتوں کو اُس وقت تک کا عرصہ کام کرنے کے لئے مل سکتا ہے اور وہ اصلاح کر سکتی ہیں۔یہ کمیشن چوہدری نعمت خانصاحب، ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب پر مشتمل ہو۔اس کے صدر چوہدری صاحب ہی ہوں گے۔اس موقع پر میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ بعض باتیں کمیشن نے نہیں لیں مجھے ان میں غلطیاں محسوس ہوتی ہیں۔وہ باتیں میں کمیشن کو پھر بتاؤں گا۔ناظروں سے شکوہ باقی ناظروں سے مجھے شکوہ اور افسوس ہے کہ انہوں نے کمیشن سے وہ تعاون نہیں کیا جو کرنا چاہئے تھا۔اگر چہ کمیشن نے لکھا ہے کہ ناظروں نے تعاون کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے مگر یہ محض رسمی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ ناظروں نے تعاون نہیں کیا۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ چونکہ اعلان کیا گیا تھا کہ کمیشن پر کوئی کسی قسم کا ناجائز دباؤ نہ ڈالے اس لئے ہم اس سے نہیں ملے تا کہ ہمارا کمیشن پر اثر نہ پڑے مگر کمیشن کے ممبر بچے نہ تھے کہ ان کے ملنے جلنے سے اثر پڑ سکتا تھا۔اعلان کا تو یہ مطلب تھا کہ کمیشن کے ممبروں کے پاس الگ بیٹھ کر دفاتر اور انتظام کے متعلق باتیں نہ بیان کی جائیں۔گو کمیشن نے اپنی شرافت کے تقاضا سے یہی اعلان کیا ہے کہ ناظروں نے تعاون کیا ہے مگر دراصل نہیں کیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ پورا پورا تعاون کریں گے۔ہدایات کی پابندی کی جائے دوسرے میں یہ امید رکھتا ہوں کہ غفلت کو چھوڑ کر جو ہدایات انہیں ملی ہیں ان کی پوری پابندی سے کام کریں گے۔مجھے اس کے متعلق بہت شکوہ ہے۔نئے کمیشن کو یہ بات خاص طور پر مد نظر رکھنی چاہئے کہ کام ہر قاعدہ کی پابندی سے کیا جاتا ہے یا نہیں۔