خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 406

خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء نہ کرتے مگر ہم نے اُنہیں چھوڑ دیا اور اس لئے چھوڑ دیا کہ خلافت جو برکت اور نعمت کے طور پر خدا تعالیٰ نے نازل کی وہ اس کے خلاف ہو گئے اور اسے مٹانا چاہتے تھے۔خلافت خدا تعالیٰ کی ایک برکت ہے اور یہ اُس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک جماعت اس کے قابل رہتی ہے لیکن جب جماعت اس کی اہل نہیں رہتی تو یہ مٹ جاتی ہے۔ہماری جماعت بھی جب تک اس کے قابل رہے گی اس میں یہ برکت قائم رہے گی۔اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ مجلس شوری جماعت کی نمائندہ ہے اور اس کی نمائندہ مجلس معتمدین ہو تو اُسے یاد رکھنا چاہئے کہ ہم یہ خیال سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتے اور ہم اس کے مقابلہ میں ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن خلافت کو نقصان پہنچنے دینے کے لئے تیار نہیں۔اللہ تعالیٰ گواہ ہے میں صاف صاف کہہ رہا ہوں ایسے لوگ ہم سے جس قدر جلدی ہو سکے الگ ہو جائیں اور اگر وہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں تو منافق ہیں اور دھوکا دے کر رہتے ہیں۔اگر سارے کے سارے بھی الگ ہو جائیں اور میں اکیلا ہی رہ جاؤں تو میں سمجھوں گا کہ میں خدا تعالیٰ کی اُس تعلیم کا نمائندہ ہوں جو اُس نے دی ہے۔مگر یہ پسند نہ کروں گا کہ خلافت میں اصولی اختلاف رکھ کر پھر کوئی ہم میں شامل رہے۔یہ اصولی مسئلہ ہے اور اس میں اختلاف کر کے کوئی ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔اس موقع پر ہر طرف سے پُر زور آوازیں آئیں کہ ہم سب اس کے ساتھ متفق ہیں۔مجبوری میں نے اس مجبوری کی وجہ سے کہ خدا تعالیٰ کے حضور گناہ گار نہ بنوں ، ضروری سمجھا کہ اس غلطی کا ازالہ کر دوں ورنہ مجھے یقین ہے کہ کمیشن کے ممبران یہ خیال نہیں رکھتے۔اس پر میں نے جب ان کے سامنے جرح کی تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے یہ بات سمجھی نہیں۔دوسرے کمیشن کا تقرر اب میں پھر کمیشن مقرر کرتا ہوں جو نظارتوں کا کام دیکھے لیکن اس کا وقت آج سے نہیں بلکہ آئندہ آنے والے جلسہ سالانہ کے بعد شروع ہو گا۔یعنی جنوری۔فروری۔مارچ ۱۹۳۱ء میں کام کرے اور مئی جون تک اپنی رپورٹ پیش کرے۔میں یہ پسند کروں گا کہ پہلے کمیشن سے ایک دو ممبر اس میں ضرور شامل ہوں تا کہ کمیشن آسانی سے دیکھ سکے کہ کام میں پہلے کی نسبت کچھ اصلاح ہوئی ہے یا نہیں۔