خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 19

خطابات شوری جلد اوّل ۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء نازک وقت آیا ہوا ہے۔شاید سوال پیدا ہو کہ کیوں پہلے نہیں سوچا گیا ؟ بیشک غلطیاں ہوئی ہیں نظارت کی اور صدرانجمن کی اور میری بھی کیونکہ ذمہ داری میری ہی ہے۔اگر کام زیادہ جاری کئے گئے جن کی جماعت برداشت نہیں کر سکی تو روکنا چاہئے تھا لیکن جو کچھ ہو چکا ہو چکا۔بہر حال اس مشکل کو دور کرنا ضروری ہے۔میں اپنی غلطی کو محسوس کرتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ اسقدر کام جاری کئے گئے کہ جماعت کو جن کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں ،مختلف مشن قائم کئے گئے ، نظارت کے صیغے قائم کئے گئے اور کہا جاتا ہے کہ جماعت اتنے بوجھ اُٹھانے کے قابل نہ تھی مگر مشکل کے وقت یا نا مجھی کے باعث ایسے خیال پیدا ہونے کوئی بڑی بات نہیں اور میں سمجھتا ہوں جو کہتا ہے کہ جماعت یہ بوجھ اُٹھانے کے قابل نہیں وہ معذور ہے مگر میں بھی معذور ہوں۔میری طبیعت خدا تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ میں بھی سوچتا رہتا ہوں کہ کون سا کام کریں جس سے دُنیا میں ہدایت پھیلے۔اور بعض دفعہ کوئی تجویز ایسی خوبصورت معلوم ہوتی ہے کہ اُس پر عمل کرنے کے لئے مجبور ہو جاتا ہوں اور وہ دن یا وہ سال جس میں جماعت کا قدم آگے نہ ہو میرے لئے دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔میں یہی چاہتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی کام نیا جاری ہو۔اس سال مشکلات تھیں اس لئے یہی کر دیا کہ کچھ ایسے لوگوں کو تیار کیا جن کو کہا تبلیغ کے لئے جاؤ اور خود کماؤ اور اس طرح تبلیغ کرو۔ایک کو روس بھیجنا ہے اور ایک کے لئے ایران کا پاسپورٹ آ گیا ہے تو میں بھی مجبور ہوں کہ ترقی ہو۔نظارت کا کام میرے نزدیک ایک منٹ بھی پہلے نہیں ہوا اور اس قدر اس کی ضرورت تھی اگر جاری نہ کرتے تو مجرم ہوتے بلکہ ہیں کہ پہلے کیوں جاری نہ کیا۔اس میں شک نہیں کہ نظارت کے کام ابھی تک جماعت کے سامنے نہیں آئے کہ لوگ معلوم کریں۔کوئی نیا کام ہوا ہے اور نہ ہی ان صیغوں نے یہ ثابت کیا ہے۔مگر جب نیا کام شروع ہو تو اس میں مشکلات ہوتی ہیں۔چونکہ کام نیا ہے، آدمی نئے ہیں ، انتظام نیا ہے اس لئے ضروری تھا کہ ایسی حالت ہو۔میرا کام یہ تھا کہ میں ان کا رکنوں کو اُن کے فرائض محسوس کراؤں اور اُن کا کام یہ تھا کہ جماعت کے لوگوں کو محسوس کرائیں مگر بہت باتیں تو ابھی کارکن بھی محسوس نہیں کرتے۔ہمارا کام یہ ہے کہ پہلے ان کو سمجھا ئیں۔مگر ایک دفعہ ہی سمجھانے سے نہیں سمجھ سکتے بلکہ بار بار سمجھانے کی ضرورت ہے اس لئے پہلے دو تین سال کا