خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 20
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاو مشاورت ۱۹۲۲ء اسی میں لگنا ضروری تھا اور جب بھی یہ کام جاری کرتے ایسا ہی ہوتا پس جو یہ کہتے ہیں کہ وقت ضائع ہوا اول تو ہم انہیں کہتے ہیں کہ ضائع نہیں ہوا۔مگر ایسا ہی ہونا ضروری ہوتا ہے اور اس کو پیچھے نہیں ڈال سکتے۔میری نظر اس بات پر پڑ رہی ہے کہ ہماری جماعت نے آج ہی کام نہیں کرنا بلکہ ہمیشہ کرنا ہے۔دُنیا کی انجمنیں ہوتی ہیں جو یہ کہتی ہیں آج کام کر کے دکھا دو اور لوگوں کے سامنے رپورٹ پیش کر دو مگر میں نے رپورٹ خدا کے سامنے پیش کرنی ہے اور خدا کی نظر اگلے زمانوں پر بھی ہے اس لئے مجھے یہ فکر ہوتی ہے کہ آج جو کام کر رہے ہیں یہ آئندہ زمانہ کے لئے بنیاد ہو۔آج کہتے ہیں تنخواہیں نہیں ملتیں۔میں کہتا ہوں اگر ایسا نہ ہوتا تو اخلاص کا پتہ نہ لگتا۔پھر اگر آج ہم ان تکالیف کو نہ اٹھا ئیں تو پیچھے آنے والوں کے لئے بوجھ چھوڑ جائیں گے۔اگر ہم آج بنیاد قائم نہ کریں تو وہ کس پر عمارت بنائیں گے اس لئے اگر اس سے زیادہ تکالیف آئیں تو بھی آئندہ کی بنیا دوں کو ہم چھوڑ نہیں سکتے اور خواہ مر ہی جائیں۔فاقہ کشی سے تو بھی کام بند نہیں کر سکتے۔ہمارا کام یہ نہیں کہ دیکھیں ہمارا کیا حال ہو گا بلکہ یہ ہے کہ جو کام ہمارے سپرد ہے اُسے اس طریق سے چلائیں کہ خدا کو کہہ سکیں اگر بعد میں آنے والے احتیاط سے کام لیں تو تباہ نہ ہوں گے۔پس مجھے آئندہ کی فکر ہے اور میری نظر آئندہ پر ہے کہ ہم آئندہ کے لئے بنیادیں رکھیں۔جس کی نظر وسیع نہیں اُسے تکلیف نظر آ رہی ہے۔مگر اگلی نسل اُن لوگوں پر جو بنیادیں رکھیں گے درود پڑھے گی اور جو لوگ ان میں روک ہوں گے اُنکا ذکر کرنے سے جی چرائے گی کہ انہوں نے ماں باپ ہو کر ہمارے لئے کچھ نہ کیا۔ہمارے افعال کا نتیجہ اب معلوم نہیں ہوتا کیونکہ بڑے کاموں کا نتیجہ بعد میں نکلا کرتا ہے۔چنانچہ وہ زمانہ آئیگا جب خدا ثابت کر دے گا کہ اس جماعت کے لئے یہ کام بنیادی پتھر ہیں۔بہر حال مالی مشکلات کے لئے تجاویز سوچتی ہیں یہ سلسلے مفید ہیں اور باوجود بعض کے کہنے کے میں نے انہیں نہیں تو ڑا اس لئے خواہ جس طرح بھی ہو ان کو قائم رکھوں گا کیونکہ ہمارا کام کام کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت زیادہ قربانیوں کی طرف آ رہی ہے۔مشکلات آئیں گی نئے کاموں میں جیسا کہ قضاء کا محکمہ نکالا ہے۔تو کہتے ہیں لڑائی جھگڑے بڑھ گئے ہیں اور کہتے ہیں اس محکمہ کی وجہ سے ہے مگر میں کہتا ہوں نہیں بلکہ بات یہ