خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 403

خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کسی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق جو قول منہہ سے نکالا تھا اُسے خدا تعالیٰ نے ناپسند کیا۔جماعت کا ذمہ وار خلیفہ ہے تو یاد رکھنا چاہئے مجلس شوری جماعت احمدیہ کی ایگزیکٹو (EXECUTIVE) باڈی نہیں ہے۔اسی بناء پر ہمارا غیر مبائعین سے اختلاف ہوا تھا کہ وہ خلیفہ کی بجائے انجمن کو جماعت کا ذمہ وار قرار دیتے تھے حالانکہ تولیت خلیفہ کی ہے۔آگے خلیفہ نے اپنے کام کے دو حصے کئے ہوئے ہیں۔ایک حصہ انتظامی ہے اس کے لئے عہدہ دار مقرر کرنا خلیفہ کا کام ہے۔ان کا رکنوں پر مجلس شوری کی کوئی حکومت نہیں ہے۔یہ طریق عمل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے وقت نظر آتا ہے۔اسامہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کا سردار مقرر کیا باقی لوگ اس کے خلاف تھے مگر آپ نے کسی کی پرواہ نہ کی ، پھر حضرت عمرؓ نے جب حضرت خالد کو سپہ سالاری سے معزول کیا تو مجلس شوری اس کے خلاف تھی مگر آپ نے وجہ تک نہ بتائی ہے مجلس شوری کس لحاظ سے خلیفہ کی جانشین ہے دوسرا حصہ خلیفہ کے کام کا اصولی ہے اس کے لئے مجلس شوری سے وہ مشورہ لیتا ہے۔پس مجلس معتمدین انتظامی کاموں میں خلیفہ کی ویسی ہی جانشین ہے جیسے مجلس شوری اصولی کاموں میں خلیفہ کی جانشین ہے۔ان دونوں کا آپس میں سوائے خلیفہ کے واسطہ کے کوئی واسطہ اور جوڑ نہیں ہے مگر ہمارے اس کمیشن نے اس بات کو نظر انداز کر کے بعض تجاویز پیش کر دیں جن سے خلافت پر بھی زد پڑتی ہے۔مجلس معتمدین کے ممبروں کا انتخاب کمیشن نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ مجلس معتمدین کے ممبر مجلس مشاورت میں سے منتخب کئے جایا کریں۔مجلس معتمدین کے ارکان چونکہ جماعت کے کارکن ہیں اس لئے وہ جماعت کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔جماعت کی اصل نمائندہ مجلس شوری ہے اس میں سے مجلس معتمدین کے ارکان منتخب ہونے چاہئیں۔لیکن صحیح بات یہ ہے کہ سلسلہ کا اصل ذمہ وار خلیفہ ہے اور سلسلہ کے انتظام کی آخری