خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 400

خطابات شوری جلد اوّل ۴۰۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء ہمیں علیحدگی اختیار کرنی پڑی اور ہم نے انہیں صاف طور پر کہہ دیا کہ اگر وہ خلافت کے قائل نہیں تو ہمارا اُن سے کوئی تعلق نہیں۔مسئلہ خلافت کی حقیقی اہمیت سے ناواقفیت اب بعض دوستوں نے مجھ سے شکایت کی کہ خلافت کا مسئلہ بعض لوگوں پر مخفی ہو رہا ہے اور وہ اس کی حقیقی اہمیت سے ناواقف ہوتے جا رہے ہیں۔کمیشن کی رپورٹ سے ظاہر ہو گیا کہ فی الواقعہ بعض لوگوں پر یہ مسئلہ مخفی ہو رہا ہے اس وجہ سے وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کی ضرورت ہوئی۔مسئلہ خلافت سے اختلاف رکھنے میں صاف الفاظ میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں اختلاف رکھنے والے کسی شخص سے ہمارا والے سے اتحاد ناممکن ہے اتحاد نہیں ہوسکتا خواہ وہ ہمارا بھائی ہو یا بیٹا یا کوئی اور قریبی رشتہ دار۔اگر جماعت کا کوئی فرد اس میں اختلاف رکھتا ہو تو اُسے دیانتداری کے ساتھ علیحدہ ہو جانا چاہئے اور اپنے لئے الگ نظام قائم کر لینا چاہئے۔اس وجہ سے ہم اُسے بُرا نہ سمجھیں گے مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم میں رہتے ہوئے خلافت تسلیم کرتے ہوئے پھر اس میں اختلاف کرے۔خلافت کے متعلق عقیدہ ہمارے اس عقیدہ کی بنیاد یہ ہے کہ جس کو خلیفہ تسلیم کیا گیا ، جس کی بیعت کی گئی ، اُس کی اُسی طرح اطاعت کرنی چاہئے جس طرح شریعت نے ضروری قرار دی ہے لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اُس نے کسی غلط فہمی کی وجہ سے خلافت کو تسلیم کیا اور خلیفہ کی بیعت کی تھی تو ہماری طرف سے آزاد ہے۔وہ جس وقت چاہے الگ ہو سکتا ہے اُس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں نہ ہم اُسے بُرا سمجھیں گے۔غیر مبائعین کو ہم اس لئے بُرا نہیں سمجھتے کہ وہ خلافت سے الگ ہو گئے بلکہ اِس لئے بُرا قرار دیتے ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں ورنہ میں تو انہیں بھی اپنا بھائی سمجھتا۔خلافت مذہب کا جزو ہے پس پہلی بات جو اس وقت میں بتانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ خلافت کوئی سیاسی نظام نہیں بلکہ مذہب کا جُزو ہے۔میں