خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 399

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کا یہی منصب ہے ہے۔منصب خلافت میں اس بات کی تفصیل میں پڑنے سے قبل بتانا چاہتا ہوں کہ وہ خلافت کا منصب جس کے لئے ہم نے یہ ذمہ واری برداشت کی تھی کہ کسی اختلاف سے نہ ڈریں گے، وہ کیا ہے؟ جب حضرت خلیفہ اسیح اول فوت ہوئے تو وہ لوگ جنہوں نے جماعت سے نکل کر الگ انجمن بنائی اُن سے میری گفتگو ہوئی۔میں نے اُن سے کہا مجھے خلیفہ کے انتخاب میں اختلاف نہیں ، آپ لوگ جسے منتخب کریں میں اُسے خلیفہ ماننے کے لئے تیار ہوں۔اُس موقع پر میں نے اپنے خاندان کے لوگوں کو جمع کیا ، اور اُن سے کہا اگر دوسرا فریق اس بات پر اڑ جائے کہ خلیفہ ہمارے ہم خیالوں اور ہم عقیدہ لوگوں میں سے نہ ہو تو ہمیں یہ بات منظور کر لینی چاہئے اور جسے وہ پیش کریں جماعت کا اتحاد قائم کرنے کے لئے اُسے خلیفہ مان لینا چاہئے۔اس پر بعض نے کہا ہم یہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص خلیفہ ہو جسے ہمارے عقائد سے اختلاف ہو۔میں نے کہا اگر تم لوگ یہ برداشت نہیں کر سکتے تو وہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص خلیفہ ہو۔اگر تم لوگ اُن کے پیش کردہ آدمی کو خلیفہ نہیں مانو گے تو میں تم سے علیحدہ ہو جاؤں گا اور اُسے خلیفہ مان لوں گا۔آخر یہ بات طے ہوئی کہ کسی ایسے شخص کو جس نے ہمارے خلاف عقائد کا اظہار نہیں کیا اور اُن لوگوں کا بھی اُس پر اعتماد ہوا سے خلیفہ منتخب کرنے کی کوشش کی جائے۔اس کے لئے میر حامد شاہ صاحب اور مولوی محمد حسن صاحب کے نام تجویز ہوئے کہ ان میں سے اگر کسی کو وہ خلیفہ منتخب کریں تو ہمیں فوراً مان لینا چاہئے؟ لیکن اگر وہ ضد کریں کہ مولوی محمد علی صاحب ہی خلیفہ ہوں تو بھی انہیں ماننا ہوگا ور نہ میں تم سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔اُس پر میں نے سب سے عہد لیا اور پھر مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ اگر آپ اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کرنا چاہتے ہیں تو ہم اُسے ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ کوئی خلیفہ ہی نہیں ہونا چاہئے تو اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس پر ہمارا آپ سے افتراق ہے۔چنانچہ ہمیں اسی وجہ سے ان سے علیحدہ ہونا پڑا اور ان کی علیحدگی کی ہم نے کوئی پرواہ نہ کی۔غرض یہ وہ مسئلہ ہے کہ جس پر اُن لوگوں سے جو جماعت کے لیڈر سمجھے جاتے تھے