خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 398

خطابات شوری جلد اول ۳۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء فیصلہ میں نے اس بارے میں تحقیقات کرائی ہے اس کے متعلق اس قدر کم مثالیں ملی ہیں کہ شکایت کی زیادہ وجہ معلوم نہیں ہوتی مگر بہر حال کوئی وجہ نہیں کہ اس کا انسداد نہ کیا جائے اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ جب تک مالی مشکلات کی دقت ہے ہر ماہ کے شروع میں ایک ماہ کی تنخواہ انجمن دوسرے صیغوں سے قرض لے کر ادا کر دیا کرے اور پھر اُس صیغہ کو مہینہ کے دوران میں آہستہ آہستہ اُس کا قرض واپس کر دیا کرے لیکن اگر پھر بھی مجبوری ہو تو تھوڑی تھوڑی تنخواہ والوں کو پہلے تنخواہیں دی جائیں اور بڑی تنخواہ والوں کو بعد میں ۔ اٹھارھویں سفارش کے متعلق تقریر اب کمیشن کی سفارشات میں سے صر صرف ایک بات باقی رہ گئی ہے میں اسے بغیر توجہ کئے چھوڑ دیتا مگر خلافت کے مقام کے احترام نے مجھے اجازت نہ دی کہ میں اسے یونہی چھوڑ دوں۔ نظر انداز نہ کرنے کے قابل سوال پہلے تو مجھے خیال آیا یہ پہلا کمیشن ہے جس نے کچھ کام کیا ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے اس کی سفارشات کو رد نہ کروں مگر پھر بھی میں نے سمجھا ذمہ واری کے لحاظ سے میری خاموشی نقصان رساں ہوگی اور میں نے یہی سمجھا کہ کمیشن کے ممبر لائق اور تعلیم یافتہ اصحاب ہیں وہ اپنی کسی رائے پر جرح بخوشی برداشت کریں گے اور جب انہوں نے میری بیعت کی ہوئی ہے تو گویا اپنا سب کچھ میرے سپرد کر دیا ہے۔ گو مجھے معلوم ہوا ہے ایک ممبر نے جرح کو بہت بری طرح محسوس کیا ہے جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ بہر حال یہ ایسا سوال تھا جسے میں نظر انداز نہیں کر سکتا تھا اور اگر میں نظر انداز کرتا تو خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ٹھہرتا۔ وہ سوال یہ ہے کہ کمیشن نے دانستہ نہیں بلکہ نا دانستہ کیونکہ جب انہوں نے بیعت کی اور مجھے خلیفہ تسلیم کر کے میری بیعت میں داخل ہوئے تو پھر خلافت کے منصب کا احترام کرنا ان کا فرض ہے، بعض باتیں ایسی لکھی ہیں کہ جو کام ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا اُس سے باہر ہیں حتی کہ وہ خود منصب خلافت پر حملہ کرتی ہیں۔ اس وجہ سے میں نے سمجھا اگر آج میں ان پر خاموش رہتا ہوں خواہ کسی وجہ سے تو کل کہا جائے گا خلیفہ دوم نے تسلیم کر لیا تھا کہ خلافت