خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 397

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء رہتے ہیں اور بہت سے ملازمین انجمن کے رشتہ داروں کو وظائف مل رہے ہیں جن کے استحقاق کے فیصلہ کے متعلق کوئی معیار مقرر نہیں ہے۔ہمارے خیال میں وظائف کا فیصلہ انجمن معتمدین کی ایک سب کمیٹی کے سپرد ہونا چاہئے جس کا بشرط ضرورت ایک ممبر ناظر تعلیم و تربیت فیصلہ یا ہیڈ ماسٹر ہوسکتا ہے۔وظائف کے متعلق جو شکایت ہے میں بھی اس سے متفق ہوں۔گو اس شدت سے نہیں جیسے بابو ضیاء الحق صاحب۔مگر یہ ضرور کہوں گا کہ اس بارے میں نقائص ہوئے ہیں۔آئندہ وظائف کا فیصلہ اس طرح کیا جائے کہ ناظر کے ساتھ ایک سب کمیٹی ہو اور مجلس شوریٰ میں جو فیصلہ وظائف کے متعلق میں منظور کر چکا ہوں اُس کی سختی کے ساتھ پابندی کی جائے۔ان قواعد کے ماتحت باہر کے طلباء کو وظیفہ دیا جائے اور کسی کو وظیفہ نہ ملے جب تک کہ اس کے ساتھ اُس کے شہر کی جماعت احمدیہ کی سفارش نہ ہو۔اور جو وظیفہ قادیان کے طلباء کو دیا جائے وہ قادیان کی لوکل کمیٹی کے مشورہ سے دیا جائے۔باہر کے علاقہ کے وظائف اُس علاقہ کی جماعت کی سفارش پر دیئے جائیں۔اس کام کے لئے کسی خاص سب کمیٹی کی ضرورت نہیں۔لوکل وظائف کے متعلق گومیں یہ اجازت دوں گا کہ نظارتوں کے کارکنوں کے بچوں کے لئے ایک حد تک وظائف رکھے جائیں مگر یہ نہیں کہ سارے کے سارے وظائف اِن کو دے دیئے جائیں۔اس کے متعلق میں قواعد بعد میں تجویز کروں گا۔کسی محکمہ کے ملازم کو بغیر حصول خاص اجازت اس محکمہ کی کوئی چیز نہیں دوسری سفارش خریدنی چاہئے اور اس صورت میں بھی کوئی ذمہ وار افسر قیمت مقرر کیا فیصلہ یہ نہایت ضروری بات ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ سوائے اس کے کہ عام نیلامی کے طور پر چیز فروخت ہو کسی کا رکن کو بھی کسی محکمہ کی کوئی چیز نہیں خریدنی چاہئے۔تیسری سفارش ہمیں دورانِ تحقیقات میں یہ معلوم ہوا کہ بعض دفعہ ناظروں کو تنخواہیں مل گئیں اور چھوٹی چھوٹی تنخواہوں والے ملازمین کو اُن کی تنخواہیں نہ ملیں۔ہمارے خیال میں ادنی ملازمین کی تنخواہیں عام طور پر پہلے ادا ہونی چاہئیں۔