خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 396

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء سوال نمبر ۳ کے متعلق سفارش کمیشن کے سامنے سوال نمبر۳ یہ تھا کہ کیا نظارتیں مجلس شوریٰ میں فیصلہ شُدہ امور کو پوری طرح جاری کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں؟ کمیشن نے اس کے متعلق یہ رپورٹ کی ہے کہ مجلس شوری کے فیصلوں کی پابندی پورے طور پر نہیں کی جاتی۔فیصلہ مجلس شوریٰ میں جو فیصلہ ہوتا ہے اُس کے یہ معنے ہیں کہ وہ خلیفہ کا فیصلہ ہے کیونکہ ہر امر کا فیصلہ مشورہ لینے کے بعد خلیفہ ہی کرتا ہے۔اگر اس فیصلہ کا احترام نہیں کیا جاتا تو پھر مجلس معتمدین کے فیصلہ کا بھی احترام نہیں ہو گا۔ایک صوفی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ اس کا گھوڑا اڑ گیا تو اس کے مریدوں نے گھوڑے کو بُرا بھلا کہنا شروع کیا۔صوفی نے کہا ایسا نہ کرو مجھ سے خدا تعالیٰ کی کوئی نافرمانی ہوئی ہے جبھی میرا گھوڑا میری نافرمانی کر رہا ہے۔جب تک کام کرنے والوں میں یہ روح نہ ہو کہ جو حاکم ہو اس کے احکام کی اطاعت کی جائے اُس وقت تک ان کے حکم کا بھی کوئی احترام نہ کرے گا۔اگر کوئی ناظر خلیفہ کی بات ٹال دیتا ہے تو کلرک اس کی بات ٹال دے گا لیکن اگر ناظر اطاعت کرے گا تو کلرک بھی اُس کی اطاعت کرے گا۔سوال نمبر ۴ کے متعلق سفارش چوتھا سوال کمیشن کے سامنے یہ تھا کہ کیا کارکن اپنے اختیارات کو اس طرح تو استعمال نہیں کرتے کہ جس سے لوگوں کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہو؟ اس کے متعلق کمیشن نے یہ رائے ظاہر کرتے ہوئے کہ کوئی واقعات ہمارے سامنے ایسے نہیں آئے جن سے ہم یہ نتیجہ نکالیں کہ کسی کا رکن نے اپنے اختیارات اس طرح استعمال کئے جس سے لوگوں کو نقصان پہنچا ہو۔بعض سفارشیں پیش کیں جن میں سے ایک یہ ہے:۔پہلی سفارش طالب علموں کو جو وظائف دیئے جاتے ہیں اُن کا فیصلہ موجودہ صورت میں صرف ناظر تعلیم و تربیت کے ہاتھ میں ہے اور وہ وظائف کے متعلق فیصلہ جات بغیر کوئی وجوہات منظوری یا نا منظوری درخواستوں پر درج کرنے کے لئے فرماتے