خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 18

خطابات شوری جلد اوّل ۱۸ مجلس مشاورت ۱۹۲۲ء منظور کر لیا اور باوجود یکہ یہاں کے لوگوں کو کم تنخواہیں ملتی ہیں اور گورنمنٹ نے دُگنی تگنی کر دی ہیں مگر ہم نے اور کم کر دی ہیں۔مگر بجائے اِس سے بوجھ کم ہو جانے کے ابھی تک کئی ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں۔پہلے تین ماہ کی تنخواہیں باقی تھیں اور اب پانچ پانچ ماہ کی ہیں اور اب حالت یہاں تک ہو گئی ہے کہ چونکہ انہوں نے قرض لے کر کھایا ہے اس لئے دُکانوں کا دیوالیہ نکل گیا۔ادھر پانچ پانچ ماہ کی تنخواہیں نہیں ملیں اُدھر دُکانوں پر سرمایہ نہیں رہا اور یہاں تک حالت ہو گئی ہے کہ میرے پاس ایک شخص کی شکایت آئی کہ دو تین وقت کا فاقہ ہے مگر ایک سیر آٹا نہیں ملتا۔میں سمجھتا ہوں کسی اور دینی جماعت کو اس سے نصف تکالیف بھی پیش آئیں تو سب لوگ بھاگ جائیں مگر یہ لوگ صبر سے کام کر رہے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اُن کی مشکلات کو دور کریں۔آپ لوگ اپنے حال پر غور کریں۔ملازموں کی تنخواہیں بڑھ گئی ہیں، غلہ مہنگا ہے اس لئے زمیندار بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں یہاں کے لوگ باہر رہ کر اُسی آرام میں رہ سکتے تھے جس میں آپ لوگ ہیں۔پھر باوجود ان حالات کے جن میں سے یہ گزر رہے ہیں اگر آپ لوگوں کو رکھا جائے تو کس طرح برداشت کریں۔کہتے ہیں قادیان لوگ آرام کے لئے جاتے ہیں مگر اس حالت کو سوچو۔ایک صاحب نظام الدین یہاں آئے جو کئی ہزار روپیہ لائے تھے۔کچھ آپ کھا لیا اور کچھ قرضہ پر لوگوں کے پاس چلا گیا۔اب پھر جانیوالے ہیں۔اسی طرح ایک اور دُکاندار کی حالت ہوئی ہے حتی کہ ڈکا نہیں کھانے پینے کی چیزیں اور سامان نہیں لاسکتیں۔اگر یہی حالت رہی تو یہ بھی ممکن ہے کہ کھانے پینے کی چیزیں مل ہی نہ سکیں۔بیشک قحط ہے مگر ملک میں ایسی حالت نہیں کہ ایسی خطرناک حالت پیدا ہوگئی ہو۔مگر یہاں ایسا ہو رہا ہے کہ کئی لوگوں کو کئی کئی دن کا فاقہ ہوتا ہے۔ابھی ایک شخص نے بتایا کہ میرے پاس سے ایک شخص گزر رہا تھا جو فاقہ۔تھا۔میں نے اُس کی شکل سے اُسے پہچانا اور فی الواقعہ کئی دن کا اُسے فاقہ تھا۔اُس نے اُسے کچھ دیا مگر اُس نے آدھا ایک اور کو راستہ میں دیدیا۔اسی طرح ایک اور کے متعلق سُنا کہ فاقہ سے بے ہوش ہو گیا اور میں نے گھر کا کھانا اُسے بھیجا اور آدمی کو کہا کہ کھلا کر آنا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایسے مخلص ہیں کہ ٹھوک سے مر جائیں گے اور کام نہ چھوڑیں گے مگر کیا ہماری جماعت کے لئے یہ دھبہ نہ ہوگا کہ ایسے کارکن بُھو کے مر گئے۔تو مالی لحاظ سے نہایت ނ