خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 395

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء دیا ہے لیکن میرے نزدیک یہ نہایت ہی معقول عذر ہے۔ہمارا کام مذہبی ہے اور یہ ہمارے فرائض میں داخل ہے کہ ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد کریں ، اُن سے تعاون کریں اور اخلاقی طور پر اعلیٰ نمونہ دکھا ئیں تاکہ دوسروں میں بھی یہ روح پیدا ہو۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اعلیٰ کارکن ایسے کاموں میں حصہ لیں۔پس جس بات پر کمیشن نے اعتراض کیا ہے میں اُس کے متعلق سفارش کروں گا کہ اگر کسی اور ناظر کو اس قسم کی کوئی ضرورت پیش آئے تو وہ بھی ضرور اس کے لئے وقت صرف کرے۔اکیسویں سفارش پستال دفتران با قاعدہ نہیں ہوتی۔ہمارے خیال میں سختی سے اس پر عمل درآمد ہو۔فیصلہ یہ نہایت ضروری امر ہے۔آئندہ جو کمیشن مقرر ہوا سے ہدایت دی جائے کہ اس امر کو خاص طور پر دیکھے۔یہاں اس بارہ میں بہت کو تا ہی کی جاتی ہے۔بائیسویں سفارش کلرکوں کا تبادلہ وقتاً فوقتاً مختلف دفاتر میں ہوتے رہنا چاہئے۔فیصلہ البتہ ناظروں کا تبادلہ بدوں کسی خاص وجہ کے نہ ہو۔یہ بھی عمدہ تجویز ہے اس پر بھی عمل ہونا چاہئے۔سوال نمبر ۲ کے متعلق سفارش کمیشن کے پیش نظر دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا نظارتیں اُن قواعد کی جو وہ پاس کرتی ہیں پابندی کراتی ہیں یا نہیں؟ اس کے متعلق کمیشن نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ قواعد مرتب کردہ انجمن معتمدین کی پورے طور پر پابندی نہیں کی جاتی اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔کوئی حکومت حکومت کہلانے کی مستحق نہیں ہوسکتی جب تک جو حکم وہ نافذ کرتی ہے یا تو اُسے منسوخ نہیں کرتی یا اُس پر عمل نہیں کراتی۔سب سے بڑا نقص مجلس معتمدین کا یہ ہے کہ اس کے قواعد کی پابندی نہیں ہوتی اور جب کسی فیصلہ کے متعلق پکڑا جاتا ہے کہ اس پر عمل کیوں نہیں ہوا تو کہا جاتا ہے عمل نہیں ہوسکتا تھا۔میں کہتا ہوں اگر عمل نہ ہوسکتا تھا تو اسے منسوخ کر دیا جاتا۔یہ کیا صورت ہے کہ قاعدہ تو موجود ہومگر کہا جائے اس پر عمل نہیں ہوسکتا۔یہ بہت بڑا نقص ہے۔