خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 390

خطابات شوری جلد اوّل ۳۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء اُس وقت دعوت دینا میری توفیق سے باہر ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کمیشن کی معزز مہمانوں سے مراد غیر احمدی یا انگریز وغیرہ ہیں۔اس اس موقع پر پریذیڈنٹ کمیشن خان صاحب چوہدری نعمت خان صاحب نے عرض کیا۔کمیشن کی یہی مراد ہے۔“ ایسے مہمانوں کا اب تک لنگر سے انتظام ہوتا ہے۔کبھی میں بھی ایسے لوگوں کو اپنا مہمان بنا لیتا ہوں اور کبھی بعض احباب کی دعوت خود کر دیتا ہوں۔پس میرے نزدیک کسی نئے خرچ کی اس کے لئے ضرورت نہیں ہے۔لنگر خانہ کے ماتحت ہی یہ انتظام رہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر اس میں کوئی زائد فائدہ ہو تو کمیشن کے ممبروں سے پوچھنے کے بعد اس کے متعلق فیصلہ کروں گا۔دوسری ضمنی تجویز اس تجویز میں تیسری بات جو کمیشن نے پیش کی ہے یہ ہے کہ سلسلہ کی ایسی اغراض جن کا ظاہر کرنا مناسب نہ ہو، اُن کے لئے خرچ رکھا جائے۔فیصلہ اس تجویز کے لئے میں کمیشن کا ممنون ہوں اس کی ضرورت تو تھی مگر میں اسے خود نہ پیش کرنا چاہتا تھا۔جس کے ہاتھ میں انتظام ہو اُسے بعض ایسے اخراجات کرنے پڑتے ہیں جو کسی صیغہ کے ماتحت نہیں آتے۔شروع شروع میں ایسے اخراجات میں اپنی طرف سے دے دیتا تھا لیکن جب بچے زیادہ ہو گئے اور میں زیادہ شادیاں کر بیٹھا تو پھر اس قسم کے اخراجات کو زکوۃ پر رکھا مگر یہ فنڈ بھی برداشت نہ کر سکا۔پھر ناظر اعلیٰ کے ذمے یہ کام رکھا، کبھی خود چندے کئے۔یہ ایک ضروری مد ہے۔آئندہ بجٹ کمیٹی اس پر غور کرے۔سپرنٹنڈنٹ دفاتر کے اخراجات کے لئے بھی اور ایسے کاموں کے لئے بھی ایک ایسی رقم ہونی چاہئے جو صرف خلیفہ کی منظوری سے پاس ہو، عام بلوں میں نہ جائے۔پندرھویں سفارش محاسب اور آڈیٹر بھی کسی نظارت کے ماتحت نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کا ایک علیحدہ محکمہ مقرر کیا جائے جس کا افسر ناظر کے برابر عہدہ کا ہو اور براہ راست انجمن معتمدین کے ماتحت ہو اور تمام غیر معمولی پل اس کی وساطت سے پاس ہوا کریں، صرف ریکرنگ پل (RECURRING BILL) محاسب ادا کرتا