خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 387

خطابات شوری جلد اوّل ۳۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء فیصلہ یہ تجویز بہت معقول ہے۔جس قدر جلد ہو سکے اس پر عمل کیا جائے۔میں اس کے لئے دو مہینے کی مہلت مقرر کرتا ہوں کہ اس عرصہ میں مبلغین کے ہیڈ کوارٹرز مقرر کر دیئے جائیں اور سوائے دو کے جو مرکز میں رکھے جائیں باقی سب کے باہر ہیڈ کوارٹرز ہوں۔ہاں گورداسپور کے علاقہ کا مبلغ اگر اپنا ہیڈ کوارٹر قادیان رکھنا چاہے تو وہ مرکزی مبلغوں میں شامل نہ ہوگا اور ہیڈ کوارٹر مقرر کرنے میں ہر مبلغ کو آزادی ہوگی کہ اپنے علاقہ میں جہاں چاہے مقرر کر لے بشرطیکہ مرکز اُس کا کسی خاص جگہ پر رہنا ضروری نہ سمجھے۔ضمنی سفارش اس تجویز کے ضمن میں یہ سفارش بھی پیش کی گئی ہے کہ مبلغین میں سے دو مبلغ ایک لاہور میں رہ کر اور دوسرا دہلی میں رہ کر بطریق وائی۔ایم۔سی۔اے انگریزی خوان طلباء میں تبلیغ کریں اور یہ دونوں مبلغ انگریزی خوان اور طریق تبلیغ سے واقف ہوں۔فیصلہ چونکہ ان دنوں مجھے بہت کام رہا ہے۔قرآن کریم کے نوٹوں کو چھپوانے کے لئے مرتب کرتا، درس کا کام، دفتر کا کام وغیرہ۔پھر کمیشن کی رپورٹ کے متعلق بھی غور کرتا رہا اس لئے وائی۔ایم۔سی۔اے کے کام کے متعلق مطالعہ نہیں کر سکا لیکن میں صیغہ کو ہدایت دیتا ہوں کہ اگر یہ کام مفید ہو تو اس کے متعلق تفصیل پیش کر دیں تا کہ میں فیصلہ کر سکوں۔اس وقت کوئی انگریزی خواں مبلغ فارغ نہیں لیکن اگر یہ کام مفید ہو تو کسی سے یہ کام لیا جا سکتا ہے۔گیارھویں سفارش نشر واشاعت کا محکمہ غیر ضروری ہے۔فیصلہ میں اس سفارش کو منظور کرتا ہوا اس محکمہ کو اڑا دیتا ہوں مگر یہ کام غیر ضروری نہیں۔یہ ایسا صیغہ ہے کہ اگر صحیح طور پر اسے چلایا جاتا تو بہت مالی مددمل سکتی تھی مگر آج تک کوئی آدمی ایسا نہیں ملا جو اسے صحیح طور پر چلا سکتا، اس لئے اسے بند کرتا ہوں جب تک خدا تعالیٰ کوئی موزوں کارکن اس کے لئے نہ دے۔یہ زمانہ پراپیگنڈا کا زمانہ ہے۔جماعتی کام میں کامیابی بھی پراپیگنڈا کے ذریعہ ہی ہوتی ہے مگر یہاں یہ حالت ہے کہ اخبار کے لئے کسی نے خود اشتہار بھیج دیا تو لے لیا، اپنی طرف سے اس کے لئے کوئی کوشش نہیں کی جاتی حالانکہ اگر کوشش کی جائے تو بہت آمدنی ہو سکتی ہے۔اگر موزوں طور پر کام کرنے والا