خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 382
خطابات شوری جلد اوّل ۳۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء نہ رہے گا تو یہ سوال شوری کے سامنے آئے گا۔شور کی اس کے متعلق مشورہ دے گی اور پھر میں فیصلہ کروں گا۔چوتھی سفارش کمیشن کی چوتھی سفارش یہ ہے کہ نظارتِ اعلیٰ غیر ضروری نظارت ہے۔یگانگت کا کام مجلس معتمدین کر سکتی ہے یا جو محکموں کا ایک مشتر کہ کلرک تقسیم ڈاک کے لئے مقرر ہوسکتا ہے۔فیصلہ میرے نزدیک وہ وجوہات جو اس نظارت کو اُڑانے کے لئے لکھی گئی ہیں کافی نہیں ہیں۔دُنیا کی کوئی کانسٹی ٹیوشن ایسی نہیں جس میں کسی ممبر کو سینئر ممبر قرار نہ دیا جائے۔کہیں اس کا نام وزیر اعظم رکھ لیا جاتا ہے اور کہیں کچھ اور۔میں نے خصوصیت سے مختلف ممالک کی کانسٹی ٹیوشنز کا مطالعہ کیا ہے۔رشین (Russian) کانسٹی ٹیوشن میں ایک کو ڈکٹیٹر مقرر کر لیا جاتا ہے۔امریکن حکومت میں کوئی خاص مقر ر نہیں کیا جاتا مگر اس کی وجہ یکھی ہے کہ پریذیڈنٹ اپنی ذات میں انتظامی طور پر جواب دہ ہوتا ہے اس لئے علیحدہ طور پر پریمیئر مقرر کرنے کی ضرورت نہیں مگر اب اس میں بھی تغیر کیا جا رہا ہے۔سیکرٹری آف سٹیٹ کو یہی اختیار دے دیئے گئے ہیں۔پس یہ اصول کے خلاف ہے۔میرے پاس ہر روز ایسے کا غذات آتے ہیں جن پر غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کے میں کسی ناظر کے پاس نہیں بھیج سکتا۔آخر مجھے یہی لکھنا پڑتا ہے کہ ناظر اعلیٰ کے پاس جائیں۔ہاں یہ میری بھی رائے ہے اور اوروں کی بھی کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ نظارت اعلیٰ کے پاس کام کافی نہیں ہے تو کوئی اور کام بھی اس کے سپرد کر دینا چاہئے۔کمیشن ایسے کام بتا دیتا تو ان کے متعلق غور کر لیا جاتا۔ناظر اعلیٰ کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس کام زیادہ ہے اور وہ کام میں لگے بھی رہتے ہیں۔اگر کمیشن اس بات پر غور کرتا کہ ناظر اعلیٰ ایسے کاموں میں وقت خرچ کرتے ہیں جو ان کے کرنے کے لئے نہیں ہیں تو وہ کام اس نظارت سے نکال دیئے جاتے اور کسی اور نظارت کا کام ناظر اعلیٰ کو زائد دے دیا جاتا۔حکومتوں میں ایسا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے سپرد اور وزارتوں کے کام بھی ہوتے ہیں۔اسی طرح نظارت اعلیٰ کے سپر د بھی کسی اور نظارت کا کام کیا جا سکتا تھا۔آئندہ جو کمیشن بیٹھے اُس سے میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس کے متعلق غور کرے گا۔فی الحال میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ نظارت خارجہ کا کام ناظر اعلی کے سپرد کر دیا جائے۔