خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 378
خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کے ساتھ میں متفق نہیں ہوں کیونکہ اس طرح دفتری کام میں نقص پیدا ہو جائے گا۔گو کمیشن کی یہ رائے ہے کہ دفتری نگرانی میں ناظروں کا اتنا حصہ نہیں ہے کہ ان کے نہ ہونے کی وجہ سے نقص پیدا ہو جائے مگر ہو سکتا ہے کہ جس دفتر کا کمیشن نے معائنہ کیا ہو وہ پوری طرح کام نہ کرتا ہو مگر کام کے لحاظ سے ناظروں کا بہت وقت کے لئے مرکز میں موجود ہونا ضروری ہے۔مجھے ان سے کام پڑتا رہتا ہے اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ناظر موجود نہ ہو تو کئی کاموں کو اُن کے آنے تک ملتوی کرنا پڑتا ہے چونکہ ناظروں سے کام لینے والا میں ہوں، مجھے ان سے مشورے لینے پڑتے ہیں اس لئے میں جانتا ہوں کہ ان کی مرکز میں کس قد رضرورت ہے۔اگر وہ کہیں باہر جائیں تو کئی باتوں کے متعلق ان کے آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ناظروں کے لئے دورہ کرنا بھی ضروری ہے۔اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ ایک وقت میں دو ناظر دورہ پر رہیں۔ایک دورہ فروری اور مارچ میں ہو۔دو ناظر اس موقع پر دورہ کے لئے نکل جائیں۔ان کا دورہ خواہ مہینہ کا ہو یا ڈیڑھ مہینہ کا ، ان کے کام کا چارج دوسرے ناظر لے لیں۔پھر دوسرا دورہ ۱۵ ستمبر سے ۱۵ نومبر تک جو مہینہ یا ڈیڑھ مہینہ کا ہو مقرر کر لیں۔آگے دورہ کی تفصیلات کے لئے ہم ناظروں کو پابند نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس میں آزاد رکھنا چاہتے ہیں جس طرح وہ مناسب سمجھیں طے کر لیں۔دورہ کے وقت کو بھی ضرورت کے مطابق وہ آگے پیچھے کر سکتے ہیں لیکن ہرششماہی میں ایک دورہ دو ناظروں کا علیحدہ علیحدہ جہات میں اس طرح کہ سب ہندوستان کا کام ان کی نگاہ میں آجائے ، ان کے لئے ضروری ہے۔ہر ماہ میں پندرہ روز دورہ میں کام کا بھی حرج ہوگا اور روپیہ بھی بہت خرچ کرنا پڑے گا۔جو قوم اپنا وقار قائم رکھنا چاہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے معززین کا احترام کرے۔میں یہ اجازت نہیں دوں گا کہ ایک ناظر محصیل کی طرح جائے بلکہ اس کا واجب احترام کرنا ضروری ہوگا کیونکہ وہ خلیفہ کا نائب ہوتا ہے۔ضروری ہوگا کہ جس صیغہ کا ناظر کہیں جائے ، وہاں کی جماعت میں اُس صیغہ کا جو انچارج ہو وہ اُسے ریسیو کرے۔پہلے سے جلسہ کا انتظام کر دیا گیا ہو اور جماعت کو ایک جگہ جمع کرنے کا انتظام ہو چکا ہو۔اس وجہ سے زیادہ دورے نہیں رکھے جا سکتے بلکہ تھوڑے ہی رکھے جائیں گے۔دورہ کے لئے وقت پہلے سے مقرر کیا جائے