خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 377
خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء ناظر صاحب امور عامه و خارجہ مہینہ میں پندرہ یوم یا کم و بیش دورہ کیا کریں اور جماعت کی مالی، روحانی، اخلاقی حالتوں کا خود ملاحظہ کر کے مناسب تجاویز سوچا کریں۔فیصلہ اس سفارش کے میں دو حصے سمجھتا ہوں۔ایک یہ کہ ناظر صاحبان دورہ کر کے دیکھیں کہ مختلف جماعتوں میں ان کے جو نائب مقرر ہیں وہ اپنا مفوضہ کام اچھی طرح کر رہے ہیں یا نہیں؟ اور ان کے کام کو زیادہ عمدہ اور مفید بنانے کے لئے کیا تجاویز ہو سکتی ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ ان کے دوروں کا وقت مقرر کیا جائے۔میرے نزدیک پہلا حصہ نہایت ضروری اور اہم ہے۔ناظر صاحبان جب تک جماعتوں کا دورہ نہ کریں گے اور بیرونی کارکنوں کے کام کو نہ دیکھیں گے، باہر کی جماعتوں کا نظام عمدہ طور پر قائم نہ ہو گا۔اس وجہ سے میں اس حصہ کے ساتھ گلی طور پر متفق ہوں کہ ناظروں کو ضرور دورہ کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ باہر کی جماعتوں میں جو سیکرٹری مقرر ہیں وہ عمدگی سے کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ان کے راستے میں کیا مشکلات ہیں اور ان کے کام کو زیادہ بہتر اور مفید بنانے کے لئے کیا تجاویز اختیار کی جاسکتی ہیں اور جماعتوں سے مل کر ایسے اصول طے کئے جائیں کہ جن پر عمل کرنے سے کام عمدگی سے ہو سکے۔بعض جماعتیں جو پہلے اچھا کام کرنے والی تھیں اس لئے گر گئیں کہ ناظروں نے دورہ نہ کیا اور ان کے کام کو نہ دیکھا۔وہاں سے کام میں نقائص اور مشکلات کے متعلق چٹھیاں آئیں مگر یہاں سے ان نقائص اور مشکلات کو دور کرنے کے متعلق کوئی کارروائی نہ کی گئی۔آخر وہ لوگ خاموش ہو کر بیٹھ گئے اور سُستی اور کاہلی کا شکار ہوتے ہوتے بالکل گر گئے اور یہاں ناظر اُن سے ناراض ہو کر بیٹھ گئے حالانکہ خدا اُن لوگوں سے بھی ناراض نہیں ہوتا جو اُس کی سخت نافرمانیاں کرتے ہیں اور اُن کو چھوڑ نہیں دیتا اور دین میں ناراضگی کا کیا مطلب؟ ناظروں کا فرض تھا کہ جو لوگ کسی وجہ سے رُوٹھ گئے تھے اُنہیں مناتے اور ان کی شکایتیں دُور کرتے اور یہ کام دورہ کے ذریعہ بخوبی ہو سکتا تھا۔دُنیا کی کوئی گورنمنٹ نہیں جس نے ملک میں افسروں کا دورہ ضروری نہ قرار دیا ہو۔اسی ملک کی گورنمنٹ کو دیکھ لو، اس کے وزراء مختلف مقامات پر دورہ کے لئے جاتے ہیں اور ملک میں چکر لگاتے رہتے ہیں۔پس انتظام کو درست رکھنے کے لئے دورہ ضروری ہے مگر ہر ماہ میں پندرہ روزہ دورہ