خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 376
خطابات شوری جلد اوّل کرنا چاہئے۔مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء کمیشن مجلس شوری کا قائم مقام نہیں اس موقع پر میں ایک اور بات صاف کر دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ یہ جو کمیشن ہے یه مجلس شوری کا قائم مقام نہیں ہے۔بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے اور خود کمیشن کے بعض ممبروں کو بھی غلط فہمی ہوئی ہے کہ اُنہوں نے کمیشن کو مجلس شوری کا قائم مقام سمجھا ہے حالانکہ مجلس شوری اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی۔وہ میرے بلانے پر آتی اور آ کر مشورہ دیتی ہے اور ہمیشہ خلیفہ کے بلانے پر آئے گی اور اُسے مشورہ دے گی۔ورنہ اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی کہ مشورہ دے اور کمیشن خلیفہ نے مقرر کیا تا کہ وہ اُس کام کا معائنہ کرے جو کارکن کر رہے ہیں اور جس کی نگرانی خلیفہ کا کام ہے۔خلیفہ چونکہ اس قدر فرصت نہیں رکھتا کہ خود تمام کاموں کی نگرانی کر سکے اس لئے اُس نے اپنی تسلی کے لئے کمیشن مقرر کیا تا کہ وہ دیکھے کہ کارکنوں کے سپر د جو کام ہے اُسے وہ کس طرح کر رہے ہیں۔غرض کمیشن خلیفہ کی طرف سے مقرر ہوا۔ہاں اتنا فرق رکھا گیا کہ کمیشن کے ارکان مجلس شوری کے ممبروں میں سے منتخب کر لئے گئے کیونکہ اس موقع پر احباب سامنے ہوتے ہیں۔پس اس کمیشن کی رپورٹ بھی خلیفہ کے ہی سامنے پیش ہونی چاہئے اور وہی اس کے متعلق فیصلہ کرے گا۔چونکہ یہ کمیشن کی پہلی رپورٹ ہے اس لئے غلطیوں کا وہ پرانا ذخیرہ جو دیر سے جمع ہوتا چلا آیا ہے اُن کا اس میں ذکر ہے۔اگر پہلے بھی اسی طرح کمیشن مقرر ہوتے رہتے تو اس وقت اس قدر غلطیاں نہ اکٹھی ہوتیں۔پس اس رپورٹ میں غلطیوں کا جو ذکر ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ خاص طور پر غلطیاں اور نقائص پائے جاتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک لمبے عرصہ سے چونکہ اس طرح دیکھ بھال نہ ہوئی تھی اس لئے ذخیرہ جمع ہوتا گیا۔اب میں کمیشن کی سفارشات کے متعلق اظہارِ خیالات کرتا ہوں۔پہلی سفارش پہلی سفارش کمیشن کی یہ ہے کہ نظارتیں اس غرض کو مدنظر رکھتے ہوئے جس کے لئے ان کا قائم کرنا ضروری خیال کیا گیا تھا، اپنے فرائض کو کما حقہ سوائے نظارت دعوۃ و تبلیغ پورا نہیں کر رہی ہیں اور اس کو تا ہی کو رفع کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ناظر صاحب دعوة و تبلیغ ، ناظر صاحب تعلیم و تربیت ، ناظر صاحب بیت المال اور