خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 375
خطابات شوری جلد اوّل ۳۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء ہوا کمیشن نے دیکھا اُس میں یہ مد نہ تھی لیکن یہ چھپائی کی غلطی سے رہ گئی تھی ، دراصل یہ مدرکھی جاتی ہے۔اگر کمیشن اس کے متعلق بیت المال سے پوچھ لیتا کہ یہ مد رکھی جاتی ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں؟ تو اُسے بیت المال والے جواب دے دیتے کہ ہاں رکھی جاتی ہے۔اور یہ مد بھی پاس ہو چکی ہے مگر چھپنے میں غلطی سے رہ گئی اس سے اس غلطی کا ازالہ ہو جاتا۔نظارت کا گریڈ اسی طرح ایک سوال صیغہ تعلیم وتربیت میں گریڈوں کے متعلق تھا اور وہ یہ کہ ایک شخص کو نظارت کا گریڈ مل گیا۔جس شخص کے متعلق یہ بات تھی کمیشن نے سمجھا کہ اُس نے اس بارے میں اپنا بیان دے دیا ہے مگر اُس نے نہ دیا تھا بلکہ میاں بشیر احمد صاحب سے ذکر آیا تو انہوں نے جواب دیا تھا۔اس قسم کی غلطیاں رپورٹ میں ہیں مگر تین چار سے زیادہ نہیں اور خوبیاں بہت زیادہ ہیں اور رپورٹ قابل قدر ہے جس سے ہم آئندہ بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔کمیشن نے گل ۲۷ سفارشات کی ہیں۔جن میں آٹھ ایسی ہیں جن سے جُزوی اختلاف ہے اور ایک دو ایسی ہیں جن سے گلی کمیشن کی سفارشات چین ہے کی اختلاف ہے۔کمیشن کے کام پر خوشی غرض کمیشن نے بہت قابلِ تعریف اور مفید کام کیا ہے اور کسی ممبر کی غلطی سے اس کام پر پانی نہیں پھیرا جا سکتا۔کمیشن کا کام باعث خوشی ہے اور میں اس پر خوشی اور امتنان کا اظہار کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگر کوئی اور کمیشن مقرر کیا گیا تو اس کے ممبر بھی اسی طرح خوشی اور محنت سے کام کریں گے بلکہ ان سے بڑھ کر کام کریں گے۔میں تو اس ممبر کو بھی مستثنے نہیں کرتا مگر باقیوں سے کہتا ہوں اگر پھر ان کے سپر د کوئی کام کیا گیا تو وہ پہلے سے بڑھ کر خوشی سے کریں گے کیونکہ یہ کام ہمارا نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام ہے اور پھر اُس خدا کا کام ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔اول تو خلیفہ سے ناراضگی شرعاً جائز نہیں لیکن اگر کوئی ناراض ہوتا ہے تو میں اُسے کہتا ہوں یہ سلسلہ خلیفہ کا نہیں بلکہ خدا کا ہے اور اگر کوئی خدا سے لڑنے کی طاقت رکھتا ہے تو لڑے ورنہ سلسلہ کا ہر کام بشاشت اور خوشی سے کرنا چاہئے اور اپنے ذاتی کام کی نسبت بہت زیادہ محنت، جوش اور اخلاص سے